نیویارک (الفجرآن لائن) وزیراعظم محمد شہباز شریف اور عزت مآب پرنس رحیم آغا خان پنجم نے پاکستان اور آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کے درمیان دیرینہ شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے صحت، تعلیم، مالیاتی شمولیت، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی صلاحیت اور پائیدار سماجی و اقتصادی ترقی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر زور دیا۔ یہ ملاقات نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر ہوئی۔ وزیراعظم نے پرنس رحیم آغا خان کا پرتپاک خیرمقدم کیا اور رواں سال کے اوائل میں ان کے دورہ پاکستان کے دوران ہونے والی ملاقات کو خوشگوار الفاظ میں یاد کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان کے ساتھ دیرینہ دوستانہ اور مثبت تعلقات کو برقرار رکھنے اور مزید مستحکم کرنے کے لیے پرنس رحیم آغا خان کے عزم کو سراہا۔ انہوں نے امن، استحکام اور ترقی کے مشترکہ مقاصد کے حصول کے لیے قریبی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔ وزیراعظم نے پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی میں اسماعیلی برادری کی دیرینہ خدمات کو سراہتے ہوئے معاشرے کے لیے خدمت، فلاح اور شہری شمولیت کی اس کی قابل قدر روایت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک سے وابستہ اداروں کی جانب سے مالیاتی شمولیت، سیاحت کے فروغ، ثقافتی ورثے کے تحفظ اور مقامی آبادی کی شمولیت کے ذریعے معاشی خودمختاری کے فروغ کے لیے کی جانے والی خدمات کو بھی سراہا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ان شعبوں میں مزید تعاون کے وسیع امکانات سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے پاکستان میں پائیدار اور جامع ترقی کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ اس موقع پر پرنس رحیم آغا خان نے وزیراعظم کے پرتپاک جذبات پر ان کا شکریہ ادا کیا اور علاقائی امن و استحکام کے لیے ان کی کوششوں کو سراہا، خصوصاً ایسے وقت میں جب خطہ مختلف تنازعات اور کشیدگی کا سامنا کر رہا ہے۔ پرنس رحیم آغا خان نے پاکستان اور آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کے درمیان دیرینہ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے پاکستان کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے انسانی ترقی، صحت، تعلیم، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت اور پائیدار سماجی و اقتصادی ترقی کے شعبوں میں تعاون جاری رکھنے اور اسے وسعت دینے کی خواہش کا اظہار کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے پرنس رحیم آغا خان کو پاکستان کے باقاعدگی سے دورے کرنے کی دعوت بھی دی، جس کا مقصد کئی دہائیوں سے قائم دوستی اور تعاون کے رشتوں کو مزید مضبوط اور گہرا کرنا ہے

