لاہور (الفجرآن لائن): سینٹر فار ایرو اسپیس اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (کَیس)، لاہور کے زیرِ اہتمام پاکستان اور بھارت کے تعلقات، اسٹریٹجک ڈیٹرنس اور علاقائی استحکام کے امکانات پر ایک اہم سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار میں ملک کے ممتاز سفارت کاروں، دفاعی ماہرین اور دانشوروں نے شرکت کی اور موجودہ حالات میں دونوں جوہری ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ خطرات کا تفصیلی احاطہ کیا۔
سابق ہائی کمشنر برائے بھارت، سفیر (ریٹائرڈ) عبدالباسط نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ جب تک مسئلہ کشمیر کا کوئی مستقل حل تلاش نہیں کیا جاتا، پاکستان اور بھارت کے درمیان حقیقی معنوں میں معمول کے تعلقات کا قائم ہونا ناممکن ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ۲۰۰۴ء سے ۲۰۰۸ء کے درمیان تعلقات میں مثبت پیش رفت ہوئی تھی، لیکن ممبئی حملوں، اڑی واقعے، پلوامہ بحران اور حال ہی میں ۲۰۲۵ء کے پہلگام حملے نے دونوں ممالک کے مابین خلیج کو مزید گہرا کر دیا۔ انہوں نے مودی حکومت کی عدمِ رابطہ کی پالیسی کو بھارت کے بڑھتے ہوئے معاشی اعتماد اور بی جے پی کے اندرونی سیاسی مفادات کا نتیجہ قرار دیا۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے اسٹریٹجک پلانز ڈویژن (SPD) کے مشیر، سفیر (ریٹائرڈ) ضمیر اکرم نے کہا کہ پاک بھارت تنازع کی جڑیں صرف کشمیر تک محدود نہیں، بلکہ خطے پر بالادستی قائم کرنے کا بھارتی رجحان اس کی اصل وجہ ہے۔ انہوں نے مودی حکومت کی نئی فوجی حکمتِ عملی "ڈائنامک رسپانس اسٹریٹیجی” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی ایٹمی حد سے نیچے محدود روایتی اور پراکسی جنگ کے لیے گنجائش پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ۲۰۲۵ء میں براہموس جیسے دہری صلاحیت (روایتی اور جوہری) کے حامل ہتھیاروں کے استعمال نے ایٹمی جنگ کے خطرے کو مزید قریب کر دیا ہے۔
قائداعظم یونیورسٹی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر سلمیٰ ملک نے حال ہی میں بحیرۂ عرب میں دونوں ممالک کے بحری جہازوں کے درمیان ہونے والے تصادم پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ کشیدہ ماحول میں ایک معمولی سا حادثہ بھی کسی بڑے بحران کو جنم دے سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے سے متعلق مستقل ثالثی عدالت کے فیصلے کو مسترد کرنا اور مبینہ "آپریشن سندور ۲.۰” جیسے بیانات خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہیں، کیونکہ جوہری ڈیٹرنس سوچی سمجھی جنگ کو تو روک سکتی ہے لیکن حادثاتی جنگ کا خطرہ برقرار رہتا ہے۔
کَیس لاہور کے صدر، ایئر مارشل (ریٹائرڈ) عاصم سلیمان نے اپنے اختتامی کلمات میں بھارت کے جارحانہ رویے کو ہندوتوا نظریات کا شاخسانہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دباؤ ڈالنے اور مذاکرات سے گریز کی بھارتی پالیسی بنیادی مسائل کو حل کرنے کے بجائے دونوں ممالک کے معاشی اور اسٹریٹجک اخراجات میں اضافہ کر رہی ہے۔ انہوں نے پاکستان کے لیے ایک ایسی جامع حکمتِ عملی تجویز کی جس میں سیاسی استحکام، مضبوط معیشت، ٹیکنالوجی کی ترقی، اور مؤثر ڈیٹرنس کے ساتھ ساتھ ذمہ دارانہ سفارت کاری شامل ہو، تاکہ خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھا جا سکے

