اسلام آباد (الفجرآن لائن) حکومت نے مالی سال 2026-27 کے لیے سالانہ قرضہ منصوبہ جاری کردیا ہے، جس کے تحت وفاقی مالی خسارے کی فنانسنگ کے لیے 7 ہزار 20 ارب روپے درکار ہوں گے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مالی خسارے کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مقامی ذرائع سے 6 ہزار 46 ارب روپے جبکہ بیرونی ذرائع سے 813 ارب روپے حاصل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مالی سال 2026-27 میں حکومت کی مجموعی مالی ضروریات کا تخمینہ 28 ہزار 647 ارب روپے لگایا گیا ہے،
جو مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً 20 فیصد کے برابر بنتی ہیں۔
منصوبے کے مطابق مالی سال کے دوران ملکی قرض کی اصل ادائیگیوں کے لیے 17 ہزار 96 ارب روپے جبکہ بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کے لیے 4 ہزار 531 ارب روپے درکار ہوں گے۔
حکومت نے قرضوں کے حصول میں طویل مدتی اور فکسڈ ریٹ سیکیورٹیز پر توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کی خالص نئی فنانسنگ 4 ہزار 580 ارب روپے رکھنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے،
جبکہ قلیل مدتی قرضوں کے اجرا کو محدود رکھنے کی حکمت عملی اپنائی جائے گی۔
حکومت مالی سال 2026-27 میں 6 ہزار 600 ارب روپے کے سکوک جاری کرنے کا ہدف بھی رکھتی ہے، جبکہ 20 سالہ فکسڈ کوپن بانڈ متعارف کرانے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق ٹی بلز کی مد میں خالص قرض منفی 2 ہزار 592 ارب روپے رکھنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ طویل مدتی سیکیورٹیز پر زیادہ انحصار کا مقصد قرضوں کی ری فنانسنگ کے خطرے کو کم کرنا ہے۔
وزارت خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق جون 2026 تک پاکستان کا مجموعی سرکاری قرض 86.7 ٹریلین روپے ریکارڈ ہوا۔
اس میں ملکی قرض 59.4 ٹریلین جبکہ بیرونی قرض 27.3 ٹریلین روپے رہا۔
حکومت نے ستمبر 2024 سے اب تک 4.7 ٹریلین روپے کے قرض مینجمنٹ آپریشنز کیے ہیں، جبکہ قرض کی اوسط مدت جون 2024 کے 2.7 سال سے بڑھ کر جون 2026 میں 3.8 سال ہوگئی ہے۔
حکومت نے 2028 تک قرض کی اوسط مدت 4.2 سال تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
سالانہ قرضہ منصوبے کے مطابق مالی سال 2026-27 میں بیرونی ذرائع سے 13.378 ارب ڈالر حاصل ہونے کا تخمینہ ہے،
جبکہ بیرونی قرضوں اور ادائیگیوں کا مجموعی حجم 10.574 ارب ڈالر متوقع ہے۔
ملٹی لیٹرل ذرائع سے 4.975 ارب ڈالر کی بیرونی آمد متوقع ہے، جبکہ حکومت بین الاقوامی بانڈز کے ذریعے 2 ارب ڈالر حاصل کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔
نجکاری سے 161 ارب روپے حاصل ہونے کی توقع بھی ظاہر کی گئی ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق حکومت بیرونی قرضوں کی مدت بڑھا کر ری فنانسنگ کے خطرے کو کم کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔
مالی سال 2026 میں سودی اخراجات میں 22 فیصد کمی بھی ریکارڈ کی گئی۔
حکومت نے ریٹیل سرمایہ کاروں کی تعداد بڑھانے کے لیے اقدامات جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ حکومتی سیکیورٹیز کے سرمایہ کاروں کا دائرہ وسیع کیا جاسکے۔

