اسلام آباد (الفجرآن لائن) پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان اقتصادی جائزے کے مذاکرات جاری ہیں، جن میں ملکی معیشت کی موجودہ صورتحال، شرح نمو، مہنگائی، زرمبادلہ کے ذخائر اور بیرونی تجارت سے متعلق تخمینوں پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی معاشی ٹیم نے آئی ایم ایف جائزہ مشن کو معاشی اشاریوں پر بریفنگ دیتے ہوئے معاشی منظرنامے کو مستحکم قرار دیا ہے۔
حکام کے مطابق روپے کی قدر میں استحکام اور مہنگائی میں کمی کی توقع ہے، جبکہ رواں مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2.5 سے 3 ارب ڈالر کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔
تاہم، ایکسچینج ریٹ اور شرح سود کے معاملے پر پاکستان اور آئی ایم ایف کے مؤقف میں اختلافات برقرار ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف مارکیٹ کی بنیاد پر شرح تبادلہ برقرار رکھنے اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے محتاط مالیاتی پالیسی پر زور دے رہا ہے،
جبکہ اسٹیٹ بینک نے 11.5 فیصد پالیسی ریٹ کو موجودہ حالات میں مناسب قرار دیا ہے۔
معاشی ٹیم نے رواں مالی سال کے لیے 4 فیصد اقتصادی ترقی کا ہدف برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
حکام کے مطابق مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باوجود معاشی نمو کا ہدف حاصل کرنے کی کوششیں جاری رہیں گی
، تاہم عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور رسد میں ممکنہ رکاوٹیں معیشت کے لیے خطرات بن سکتی ہیں۔

