اسلام آبادٓ(الفجر آن لائن) وفاقی حکومت اور خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان جاری آئینی و سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے شمالی وزیرستان کے بزرگ ملک خان مرجان کی قیادت میں مشترکہ قبائلی جرگہ متحرک ہوگیا ہے۔
جرگے کی مصالحتی کوششوں کا مقصد دونوں فریقین کے درمیان موجود ڈیڈ لاک ختم کرکے مذاکرات کی راہ ہموار کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق قبائلی جرگے کے عمائدین نے گورنر خیبر پختونخوا اور وزیراعلیٰ سے الگ الگ ملاقاتیں کی ہیں۔ جرگے کا وفد غلط فہمیاں دور کرنے اور دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے بیک وقت کوششیں کررہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جرگے میں شامل بعض عمائدین وفاقی حکومت کو اعتماد میں لینے کے لیے اسلام آباد میں موجود ہیں، جہاں وہ اہم حکومتی شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے۔
جرگہ ارکان نے ابتدائی رابطوں میں پیش رفت اور مثبت نتائج کی امید ظاہر کی ہےجرگے کا بنیادی مقصد وفاق اور خیبر پختونخوا حکومت کے درمیان اعتماد بحال کرنا اور سیاسی کشیدگی کا خاتمہ ہے۔
جرگہ ذمہ داران کا مؤقف ہے کہ موجودہ سیاسی تصادم کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں، اس لیے دونوں جانب سے لچک کا مظاہرہ ضروری ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال ملک کو بڑے نقصان کی طرف لے جاسکتی ہے۔ذرائع کے مطابق جرگے کے ذمہ داران نے صوبائی حکومت کو
چار اکتوبر کے مجوزہ لانگ مارچ کو مؤخر کرنے کا مشورہ بھی دیا ہے صوبائی حکومت کی جانب سے قبائلی عمائدین کو چار اکتوبر کے احتجاج سے متعلق اپنا مؤقف آگاہ کیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چار اکتوبر کے احتجاج سے قبل سیاسی تناؤ کم کرنے کے لیے جرگے کی کوششیں آخری مراحل میں داخل ہوگئی ہیں، جبکہ جرگہ ارکان نے آج وفاقی سطح پر اہم حکومتی شخصیات سے مزید رابطے کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔

