*سرکاری طبی اداروں پر عوام کا اعتماد بحال ہورہا ہے، اصلاحاتی اقدامات جاری رکھیں گے، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی*

کوئٹہ (الفجرآن لائن): بلوچستان میں حکومت کی جانب سے صحت کے شعبے میں کی جانے والی اصلاحات کے مثبت اثرات نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ صوبے میں اب عام عوام کے ساتھ ساتھ اراکینِ صوبائی اسمبلی نے بھی علاج و معالجے کے لیے سرکاری اسپتالوں کا رخ کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں موجودہ رکنِ صوبائی اسمبلی اور سابق صوبائی وزیر صحت میر رحمت صالح بلوچ کو دل کی تکلیف کے باعث کوئٹہ کے سول سنڈیمن پروونشل اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں شعبہ امراضِ قلب کے ماہر ڈاکٹروں نے ان کی کامیاب اینجیو پلاسٹی کی۔ میر رحمت صالح بلوچ نے اسپتال میں فراہم کی جانے والی معیاری طبی سہولیات اور عملے کے رویے پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا۔
کامیاب آپریشن کے بعد گفتگو کرتے ہوئے میر رحمت صالح بلوچ کا کہنا تھا کہ صوبے کے اندر ہی معیاری اور جدید طبی سہولیات کی دستیابی ایک خوش آئند قدم ہے۔ اب بلوچستان کے عوام کو علاج کے لیے کراچی، لاہور یا دیگر بڑے شہروں کا رخ کرنے کی تکلیف نہیں اٹھانی پڑے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام سے غریب مریضوں کے اضافی اخراجات اور سفری مشکلات کا بہترین خاتمہ ہو رہا ہے۔
رکنِ صوبائی اسمبلی کی عیادت کے لیے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے ہمراہ سول سنڈیمن پروونشل اسپتال پہنچے۔ وزیر اعلیٰ نے زیرِ علاج میر رحمت صالح بلوچ کی خیریت دریافت کی اور ان کی جلد صحت یابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ کو اسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے فراہم کردہ سہولیات پر بریفنگ بھی دی گئی۔
وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ بلوچستان کے عوام کو ان کی دہلیز پر معیاری طبی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے میں جاری اصلاحات کا بنیادی مقصد ہی یہی ہے کہ شہریوں کو علاج کے لیے دوسرے شہروں میں نہ جانا پڑے۔ صوبائی حکومت سرکاری اسپتالوں میں جدید ترین مشینری کی فراہمی اور علاج کا معیار بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے تاکہ بلوچستان کا ہر شہری بروقت اور بہترین علاج سے مستفید ہو سکے۔

