اسلام آباد (الفجرآن لائن) وفاقی آئینی عدالت نے 126 صفحات پر مشتمل پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز 2026ء جاری کر دیے ہیں، جن میں توہین عدالت، نظرثانی درخواستوں، سزائے موت کے مقدمات، حبس بے جا، اپیلوں، التوا اور وکلا کے اندراج سمیت عدالتی کارروائی سے متعلق تفصیلی قواعد وضع کیے گئے ہیں۔
رولز کے مطابق وفاقی آئینی عدالت توہین عدالت کا ازخود نوٹس لے سکے گی، جبکہ کسی بھی شخص کی درخواست پر بھی توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جا سکے گی۔
عدالت کے توہین عدالت کے اختیار کی آئینی بنیاد آرٹیکل 204 میں موجود ہے، جس میں وفاقی آئینی عدالت کو بھی ”عدالت“ کی تعریف میں شامل کیا گیا ہے۔
نظرثانی درخواستوں سے متعلق قواعد میں قرار دیا گیا ہے کہ بے بنیاد یا بدنیتی پر مبنی درخواست دائر کرنے کی صورت میں وکیل کے خلاف تادیبی کارروائی کے ساتھ کم از کم 25 ہزار روپے اخراجات عائد کیے جا سکتے ہیں۔
نظرثانی درخواست دائر کرنے سے قبل درخواست گزار کو 50 ہزار روپے زرِ ضمانت جمع کرانا ہوگا، جو درخواست خارج ہونے کی صورت میں ضبط بھی کیا جا سکتا ہے۔
رولز کے تحت نظرثانی درخواست حتی الامکان اسی بینچ کے سامنے مقرر کی جائے گی جس نے اصل فیصلہ دیا ہو، جبکہ نظرثانی کے حکم کے خلاف مزید نظرثانی کی گنجائش نہیں ہوگی۔
سزائے موت سے متعلق نظرثانی درخواست دائر ہونے پر رجسٹرار متعلقہ حکومت کو فوری طور پر آگاہ کرے گا۔
نظرثانی درخواست کے فیصلے تک سزائے موت پر عملدرآمد خودکار طور پر معطل رہے گا اور اس کے لیے عدالت کے الگ حکم کی ضرورت نہیں ہوگی۔
تاہم اپیل، نظرثانی اور رحم کی درخواست سمیت تمام قانونی چارہ جوئی مکمل ہونے کے بعد یہ اصول لاگو نہیں ہوگا۔
رولز میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ آئین کی تشریح سے متعلق اہم سوال پر وفاقی آئینی عدالت کسی بھی عدالت میں زیر سماعت مقدمے کا ریکارڈ طلب کر سکتی ہے،
جسے متعلقہ عدالت فوری طور پر ارسال کرنے کی پابند ہوگی۔
حبس بے جا کی درخواست رجسٹری میں دائر کی جائے گی اور اس کے ساتھ زیر حراست شخص کا حلف نامہ منسلک کرنا ہوگا۔
آرٹیکل 175 ای کی شق 3 کے تحت ایسی درخواست سات روز کے اندر سماعت کے لیے مقرر کی جائے گی جبکہ اس پر کوئی عدالتی فیس عائد نہیں ہوگی۔
فوجداری مقدمات میں اپیل کی اجازت کی درخواست 60 روز کے اندر دائر کرنا ہوگی۔
التوا کو استثنائی معاملہ قرار دیا گیا ہے اور اسے کسی فریق کا حق تسلیم نہیں کیا گیا۔
بے بنیاد التوا کی درخواست مسترد کرنے کے ساتھ قصوروار فریق یا وکیل پر تلافیاتی اخراجات بھی عائد کیے جا سکیں گے

