کوئٹہ (الفجرآن لائن)بلوچستان کے ضلع مستونگ میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں ہلاک ہونے والے فتنہ الہندوستان سے وابستہ دہشت گردوں میں افغان باشندوں کی موجودگی کے شواہد سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک دہشت گردوں میں سے ذوالفقار عرف ابو عمر سے افغان جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس (جی ڈی آئی) کا کارڈ جبکہ خلیل احمد سے افغان تذکرہ برآمد ہوا ہے۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق مستونگ آپریشن کے بعد برآمد ہونے والی
دستاویزات سے دہشت گردوں کے افغان روابط کی نشاندہی ہوتی ہے سکیورٹی ذرائع نے 2025 کی ایک خفیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ اور افغان طالبان انٹیلی جنس کے درمیان ایک مشترکہ خفیہ نیٹ ورک موجود تھا،
جس کا مقصد بلوچستان میں تخریب کاری اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں معاونت فراہم کرنا تھا۔
ذرائع کے مطابق رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ راکی جانب سے بلوچستان میں دہشت گردی اور تخریب کاری کے لیے 78 لاکھ ڈالر فراہم کیے گئے
جبکہ فتنہ الہندوستان سے وابستہ عناصر کو جدید اسلحہ اور لاجسٹک معاونت بھی فراہم کی گئی۔
سکیورٹی ذرائع نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ طالبان رہنما ملا ہیبت اللہ کی جانب سے فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کو اسلحہ فراہم کرنے سے متعلق مبینہ خط بھی بھارتی و افغان عناصر کے باہمی روابط کے شواہد میں شامل ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کو مبینہ طور پر دہشت گردوں کی تربیت، مالی معاونت اور پناہ گاہوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
مستونگ میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران فتنہ الہندوستان سے وابستہ متعدد دہشت گردوں کی ہلاکت کی اطلاعات پہلے بھی سامنے آ چکی ہیں۔
حکام کی جانب سے بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے اور دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز مزید مؤثر بنانے پر زور دیا جا رہا ہے۔
سرکاری مؤقف کے مطابق فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں ملک میں غیر ملکی معاونت یافتہ دہشت گردی کے خاتمے کی مہم کا حصہ ہیں۔

