اسلام آباد (الفجرآن لائن) وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ میں مجوزہ ترامیم کو نا قابل قبول قرار دیتے ہوے کہا ہے کہ پولیس اگر سیاسی فیصلوں کے تابع ہوگئی تو دہشت گردی اور امن و امان سے نمٹنے کی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے۔
صوبے اپنی فوج اور پولیس نہیں بنا سکتے نہ ہی صوبوں کو مادر پدر آزادی دی جا سکتی ہے۔
پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا 18ویں آئینی ترمیم کے بعد پولیس صوبائی اختیار ہے، تاہم ایسے ادارے کے کمانڈ اسٹرکچر کو ایسی قانون سازی کے ذریعے متاثر نہیں کیا جانا چاہیے۔
وفاقی قوانین سے ماورا قانون سازی نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پولیس سروس رولز موجود ہیں انہیں دوبارہ تحریر نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا خیبرپختونخوا پولیس گزشتہ کئی برس سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے اور اس دوران اہلکاروں نے جانوں کی قربانیاں دی ہیں،
ایسے ادارے کے کمانڈ اسٹرکچر کو ایسی قانون سازی کے ذریعے متاثر نہیں کیا جانا چاہیے جو آئینی یا وفاقی قوانین سے متصادم ہو۔
وزیر مملکت داخلہ نے دعویٰ کیا کہ مجوزہ ترامیم کے ذریعے صرف انسپکٹر جنرل پولیس کے اختیارات ہی واپس نہیں لیے جا رہے بلکہ پولیس کا مجموعی کمانڈ اسٹرکچر متاثر ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ ایس ڈی پی او اور اے آئی جی کے اختیارات بھی محدود کیے گئے ہیں جبکہ 17ویں گریڈ تک پولیس افسران کی تقرریاں وزیراعلیٰ کے ماتحت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
طلال چوہدری نے سوال اٹھا تے ہوے کہا کہ اس صورتحال میں پولیس سیاسی فیصلوں سے کیسے محفوظ رہ سکے گی۔
انہوں نے کہا کہ اگر پولیس کو سیاسی وابستگیوں اور حکومتی خوشی یا ناراضی کو مدنظر رکھ کر فیصلے کرنا پڑیں تو اس کا اثر پولیس کے نظم و ضبط اور کارکردگی پر پڑے گا۔
طلال چوہدری نے کہا کہ صوبائی خودمختاری کا مطلب یہ نہیں کہ صوبے آئینی حدود سے باہر جاکر قانون سازی کریں۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی صوبہ اپنی بحریہ بنانے کی کوشش کرے تو ایسا نہیں ہوسکتا، اسی طرح پولیس کے معاملات میں بھی آئینی اور وفاقی قانونی فریم ورک کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس کا بنیادی کام امن و امان برقرار رکھنا ہے اور ایک ڈسپلن فورس کے مورال کو متاثر کرکے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ماضی میں پولیس کو سیاست سے پاک کرنے کی بات کی جاتی رہی اور درانی کمیشن کے ذریعے پولیس اصلاحات کی گئیں،
تاہم ان کے اگر پولیس سروس آف پاکستان کے افسران نہیں ہوں گے تو صوبہ اعلیٰ افسران کے بغیر پولیس کا نظام کیسے چلائے گا۔

