اسلام آباد (الفجرآن لائن) پاکستان اور (آئی ایم ایف) کے درمیان 1.2 ارب ڈالر کی دو قرض اقساط کے حصول کے لیے مذاکرات جاری ہیں، جن میں پاکستان کی معاشی کارکردگی، بیرونی شعبے، مالیاتی اہداف اور اصلاحاتی اقدامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تعلیم و صحت کے شعبوں پر مطلوبہ اخراجات نہ ہونے، بجٹ میں شماریاتی فرق اور اخراجات کے مقررہ ہدف کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا۔
ذرائع کے مطابق سرکاری اداروں میں گورننس اصلاحات پر مطلوبہ پیش رفت نہ ہونے کا معاملکرو اکنامک صورتحال، مالیاتی پالیسی، بیرونی شعبے اور اصلاحاتی پروگرام پر عملدرآمد کا شروع کر دی ہے،
جس کے دوران ملکی معیشت کی مجموعی صورتحال اور پ سرکاری اداروں میں گورننس اصلاحات پر عملدرآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات میں تعلیم اور صحت پر اخراجات کے مقررہ ہدف کا معاملہ بھی زیرِ بحث آیا۔ پاکستان کو دونوں شعبوں پر مجموعی طور پر 3.47 ٹریلین روپے خرچ کرنے کی شرط پوری کرنا تھی، تاہم مطلوبہ ہدف کے مقابلے میں تقریباً 370 ارب روپے کی کمی رہ گئی۔
آئی ایم ایف نے بجٹ میں تقریباً 853 ارب روپے کے شماریاتی فرق پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سرکاری اداروں میں گورننس اصلاحات پر مطلوبہ پیش رفت نہ ہونے کا معاملہ بھی مذاکرات کا اہم حصہ ہے

