مظفرآباد(الفجر آن لائن) چیف سیکرٹری آزاد جموں و کشمیر خوشحال خان اور انسپکٹر جنرل پولیس کیپٹن (ر) لیاقت علی ملک نے کہا ہے کہ گزشتہ سال عوامی مطالبات کی آڑ میں مسلح گروہوں اور شرپسند عناصر کی جانب سے کیے گئے
پرتشدد واقعات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 409 اہلکار زخمی جبکہ 3 شہید ہوئے۔
مظفرآباد میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکرٹری خوشحال خان نے کہا کہ 25 ستمبر سے 4 اکتوبر کے دوران مسلح جتھوں اور شرپسند عناصر نے عوامی مطالبات کی آڑ میں آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال خراب کی۔
ان کے مطابق چمیاٹی، ضلع دھیرکوٹ میں پولیس پر حملے کے نتیجے میں 3 اہلکار شہید اور تقریباً 409 زخمی ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے امن کی بحالی اور ریاستی رٹ قائم رکھنے کے لیے فوری اقدامات کیے، تمام عوامی مطالبات پورے کیے اور معاہدے پر عمل درآمد یقینی بنایا۔
چیف سیکرٹری کے مطابق رواں سال جون میں ہونے والی ہڑتالی تحریک اور پہیہ جام کو عوام نے ناکام بنایا، جس کے بعد شرپسند عناصر محدود ہوگئے۔
ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں حکومت کی رٹ مکمل طور پر قائم ہے، صدر اور وزیراعظم اپنے عہدوں کا حلف اٹھا چکے ہیں جبکہ کاروباری مراکز اور معمولات زندگی بحال ہیں۔
اس موقع پر آئی جی پولیس آزاد کشمیر کیپٹن (ر) لیاقت علی ملک نے کہا کہ گزشتہ سال سانحہ چمیاٹی اور اس کے بعد ہونے والے پرتشدد واقعات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 409 اہلکار زخمی اور 3 شہید ہوئے۔
شہید ہونے والوں میں کانسٹیبل طاہر رفیق، سیکشن گریڈ کانسٹیبل محمد جمیل اور ہیڈ کانسٹیبل محمد رشید شامل ہیں۔
آئی جی پولیس نے الزام عائد کیا کہ پرتشدد کارروائیوں کے دوران بعض عناصر نے شہید اہلکاروں کی لاشوں کی بھی بے حرمتی کی۔
ان کے مطابق سانحہ چمیاٹی کے مقدمات میں اب تک 122 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور تمام ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

