اسلام آباد(الفجر آن لائن) سرکاری ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا میں نہ قومی ایمرجنسی نافذ کرنے کا کوئی فیصلہ ہوا ہے اور نہ ہی گورنر راج کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں قومی ایمرجنسی کی ضرورت ہے نہ ہی اسے نافذ کرنے کا کوئی فیصلہ ہوا ہے۔
تاہم حکومتی ذرائع نے صوبائی حکومت پر امن و امان کے قیام میں ناکامی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت کو امن و امان اور طرز حکمرانی بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔
ذرائع کے مطابق سیاسی کشیدگی میں کمی کے لیے سیاسی کوششیں جاری ہیں، جبکہ حکومت کی جانب سے بیک ڈور رابطوں میں بھی یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ خیبر پختونخوا میں تاحال کسی آئینی اقدام کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔
مسلم لیگ (ن) کی جانب سے پی ٹی آئی قیادت کو پیغام دیا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت پہلے اپنا گھر درست کرے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق وفاق پر چڑھائی کے بجائے صوبائی حکومت کو دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں پر توجہ دینی چاہیے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر وفاق پر چڑھائی کی گئی تو وفاقی حکومت ریاست کی عملداری یقینی بنانے کے لیے ہر ضروری اقدام اٹھائے گی۔
حکومتی ذرائع کے مطابق سیاسی اور آئینی معاملات پر اپوزیشن سے بات چیت کا راستہ بھی کھلا ہے۔

