اسلام آباد (الفجرآن لائن) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ خطے میں امن و استحکام کا ذریعہ ہے، طے شدہ بین الاقوامی معاہدوں پر عملدرآمد متعلقہ فریقین کے لیے لازم ہے اور انہیں یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کیا جاسکتا۔
پاکستان امن چاہتا ہے تاہم پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے ان خیالات کا اظہارپانی کا بطور ہتھیار استعمال سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے تاریخی، قانونی و تذویریاتی پہلوکے موضوع پر انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز کی خصوصی رپورٹ کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
عطاء اللہ تارڑ نے انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز کی جانب سے رپورٹ کے اجراء کو سراہتے ہوئے کہا کہ بطور پاکستانی ہمیں فخر ہے کہ ہمارا تعلق سندھ طاس کی قدیم تہذیب سے ہے۔
پانی پاکستان کے عوام کی زندگی، زراعت اور معیشت سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی معاہدوں کو یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کیا جاسکتا۔
سندھ طاس معاہدے کو نہ معطل کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اسے التواء میں رکھا جاسکتا ہے۔
عالمی ثالثی عدالت بھی پاکستان کے مؤقف کے حق میں فیصلہ دے چکی ہے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق اپنا مؤقف سفارتی سطح پر بھرپور انداز میں اٹھایا اور عالمی برادری کو اپنے قانونی مؤقف سے آگاہ کیا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوام متحدہ میں بھی واضح کیا کہ پاکستان کا پانی روکنا جنگی اقدام تصور ہوگا۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں جانوں کی قربانیاں دے چکا ہے اور اربوں ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کرچکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مشرقی ہمسائے کی جانب سے سرحد پار مداخلت کے بے بنیاد الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔

