کوئٹہ میں محکمہ ثقافت کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب میں سال 2021 اور 2022 کے لیے بلوچی، براہوی، پشتو، فارسی اور اردو زبان کے اہل قلم کی فکری و تحقیقی خدمات کا سرکاری سطح پر اعتراف کیا گیا، صوبائی وزیر تعلیم محترمہ راحیلہ حمید درانی نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔
کوئٹہ(الفجرآن لائن) حکومت بلوچستان کے محکمہ ثقافت، سیاحت و آرکائیوز کے زیر اہتمام علامہ اقبال صوبائی ادبی ایوارڈز 2021 اور 2022 کی ایک پروقار اور تاریخی تقریب نور نصیر خان کلچرل کمپلیکس، اسپنی روڈ کوئٹہ میں منعقد ہوئی۔ اس باوقار تقریب میں بلوچستان بھر سے نامور ادیبوں، شعراء، محققین، دانشوروں، فنکاروں اور اعلیٰ سرکاری افسران سمیت ادب سے وابستہ مقتدر شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب کا بنیادی مقصد صوبے کے ادبی و ثقافتی ورثے کا فروغ اور علاقائی زبانوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے اہل قلم کی خدمات کا اعتراف تھا۔
تقریب کی مہمانِ خصوصی صوبائی وزیر تعلیم محترمہ راحیلہ حمید درانی تھیں، جنہوں نے اپنے خطاب میں ادب اور ادیبوں کی اہمیت پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ ادب کسی بھی معاشرے کی فکری، تہذیبی اور اخلاقی تشکیل میں بنیادی اور کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان مختلف زبانوں، ثقافتوں اور ادبی روایات کا امین ہے، جہاں بلوچی، براہوی، پشتو، اردو اور دیگر زبانوں کے ادیبوں اور شعراء نے اپنی لازوال تخلیقات کے ذریعے صوبے کی ادبی شناخت کو ملک بھر میں روشن کیا ہے۔ حکومت بلوچستان اپنے قلمکاروں کی حوصلہ افزائی کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔
صوبائی وزیر تعلیم نے مزید کہا کہ یہ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ اہل قلم کی گراں قدر خدمات کا سرکاری سطح پر اعتراف کرے۔ انہوں نے نئی نسل کو مطالعہ، تحقیق، شاعری اور تخلیقی سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے کے لیے ایک سازگار ماحول فراہم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ان کے بقول، علامہ اقبال صوبائی ادبی ایوارڈز اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں، جس کے ذریعے تخلیقی اور معیاری کام کی سرپرستی کی جا رہی ہے۔ اس موقع پر گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل، چیف سیکرٹری شکیل قادر خان، سیکرٹری کلچر حامد اللہ خان ناصر اور پارلیمانی سیکرٹری نوابزادہ میر محمد زرین خان مگسی کی جانب سے بھی اہل قلم کی سرپرستی جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔
تقریب کے دوران مقررین نے بلوچستان کی لسانی اور ادبی گوناگونی کو صوبے کی اصل طاقت قرار دیا۔ پارلیمانی سیکرٹری برائے قانون، ثقافت و سیاحت نوابزادہ میر محمد زرین خان مگسی نے اپنے پیغام میں کہا کہ بلوچستان کی ثقافتی شناخت یہاں کے مختلف لسانی ورثوں کے مجموعے سے بنتی ہے، اس لیے ہر زبان کے ادب کا تحفظ ناگزیر ہے۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ کتاب اور تحقیق کا فروغ نوجوان نسل کو ان کی تہذیبی جڑوں سے جوڑنے اور عالمی سطح پر بلوچستان کا مثبت تشخص اجاگر کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔
تقریب کے آخری حصے میں سال 2021 اور 2022 کے دوران بلوچی، براہوی، پشتو، فارسی اور اردو زبانوں میں شاعری، نثر اور تحقیق کے شعبوں میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے خوش نصیب ادیبوں اور محققین میں ایوارڈز تقسیم کیے گئے۔ ایوارڈ پانے والوں میں ڈاکٹر عرفان احمد بیگ (تمغۂ امتیاز)، غنی پرواز، برکت شاہ کاکڑ، زکیہ بہروز اور دیگر مقتدر نام شامل تھے۔ تقریب کے اختتام پر محکمہ ثقافت نے عزم ظاہر کیا کہ بلوچستان کے عظیم ادبی سرمایے کو جدید ذرائع سے دنیا کے سامنے پیش کرنے اور اہل قلم کی فلاح و بہبود کے لیے ایسے پروگرامز مستقبل میں بھی تسلسل کے ساتھ جاری رکھے جائیں گے۔

