**کوئٹہ(الفجرآن لائن) ڈائریکٹر جنرل پبلک ریلیشنز بلوچستان عسکر خان نے کہا ہے کہ قومی کھیل ہاکی کے فروغ اور ماضی کی کامیابیوں کی بحالی کے لیے سکولوں کی سطح پر کھیلوں کی سرگرمیوں کو فروغ دینا اور نوجوان کھلاڑیوں کو بہتر مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں، جنہیں تربیت اور سہولیات فراہم کرکے قومی اور بین الاقوامی سطح پر ملک کی نمائندگی کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔ وہ ایوب اسٹیڈیم کوئٹہ میں پاکستان ہاکی فیڈریشن، بلوچستان ہاکی ایسوسی ایشن، محکمہ تعلیم اور محکمہ کھیل کے اشتراک سے منعقدہ تقریب کے مہمان خصوصی تھے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ کوئٹہ کے 25 سکولوں کے طلباء میں ہاکی کٹس اور کھیلوں کا سامان تقسیم کرنا قومی کھیل کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ تاہم نوجوان کھلاڑیوں کی صلاحیتیں نکھارنے کے لیے معیاری کوچنگ، باقاعدہ تربیت، کھیلوں کی سہولیات اور مسلسل حوصلہ افزائی بھی ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ ہاکی پاکستان کا قومی کھیل ہے اور ماضی میں اس کھیل میں حاصل ہونے والی کامیابیاں ہماری قومی تاریخ کا قابلِ فخر حصہ ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نئی نسل کو ہاکی کی جانب راغب کرکے سکولوں سے باصلاحیت کھلاڑی سامنے لائے جائیں۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ بلوچستان کے پی ایس او اور بلوچستان ہاکی فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری سید امین شاہ نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان باصلاحیت اور بلند حوصلہ ہیں۔ انہیں مناسب سہولیات اور مواقع فراہم کرکے قومی سطح کے کھلاڑی تیار کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھیل نوجوانوں میں نظم و ضبط، خود اعتمادی، برداشت اور ٹیم ورک کا جذبہ پیدا کرتے ہیں۔اسپیشل سیکرٹری محکمہ تعلیم بلوچستان رضوان قدیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ تعلیم کے ساتھ کھیلوں کا فروغ طلباء کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کے لیے ضروری ہے۔ سکولوں میں کھیلوں کی سرگرمیوں کو فروغ دے کر طلباء کو اپنی صلاحیتیں اجاگر کرنے کے بہتر مواقع فراہم کیے جا سکتے ہیں۔مقررین نے ہاکی کے فروغ کے لیے پاکستان ہاکی فیڈریشن، بلوچستان ہاکی ایسوسی ایشن، محکمہ تعلیم اور محکمہ کھیل کی مشترکہ کوششوں کو اہم قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ نوجوانوں کو کھیلوں کی مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے اور قومی کھیل کو فروغ دینے کے لیے ایسی کاوشیں جاری رہنی چاہئیں۔ تقریب میں ڈائریکٹر سپورٹس سجاد اسلم بلوچ، ڈپٹی ڈائریکٹر جمیل احمد اور دیگر افسران بھی موجود تھے

