اسلام آباد (الفجر آن لائن) وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کم از کم ایک سال اور 2029تک بھی جا سکتی ہے، امن و امان کیلئے 2029 تک ایمرجنسی مہنگا سودا نہیں،جن علاقوں کو فوج دہشتگردوں سے پاک کریگی، سول انتظامیہ انہیں ہولڈ کرے گی۔
اپنے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ گورنر راج،ایمرجنسی کے بعد مینڈیٹ اسمبلی کے پاس چلا جائیگا،ایمرجنسی ہٹ جاتی ہے اور اسمبلی نیا لیڈر آف دی ہاؤ س منتخب کرے اور وہ دہشتگردی کے خلاف متفق نہیں ہو گا تو ایمرجنسی 10 بار بھی لگانا پڑے تو لگنی چاہیے۔
رانا ثنا اللہ کا کہناتھا کہ پاکستان پہلے ہے یا کسی کا وزیراعلی بننا پہلے ہے؟ آئین کے تحت ایمرجنسی کی مدت بڑھائی جاسکتی ہے، حالات 3 یا 6 مہینے میں ٹھیک ہوجائیں توایمرجنسی آگے نہیں جانی چاہیے،
اقتدار میں چاہے پی ٹی آئی ہو،اسے دہشتگردی کے خلاف قومی بیانیے کیساتھ کھڑا ہونا ہو گا، ہم پرامید اور متفق ہیں کہ یہ نظام کافی کام کرلے گا،
ایڈوائزری کونسل سیکیورٹی فورسز اور مسلح افواج کو سپورٹ دیگی، جن علاقوں کو فوج دہشتگردوں سے پاک کریگی،سول انتظامیہ انہیں ہولڈ کریگی۔
انھوں نے کہا وفاق نے ٹیم کو جو ذمہ داری سونپی وہ پوری ہو جائے تو بڑی بات ہوگی، عثمان بزدار کی طرح سہیل آفریدی کو پارٹی ہاتھ میں دے کر حکومت دے دی گئی،
عمر کے برابر تجربے کے لوگ ہم سے مذاکرات کرتے ہوئے سہیل آفریدی سے ڈکٹیشن لے رہے تھے۔رانا ثنا نے کہا مولانا فضل الرحمان کو غلط فہمی ہوئی ہے، مولانا کو وزیر اعظم نے واضح کہا تھا کہ پہلے لانگ مارچ کال آف کریں پھر بات ہوگی۔

