پی ٹی آئی حکومت نے ان کیخلاف کیا ایکشن لیاا؟ عمران خان کی قید کو ایشو بنا کرہتھیار کیسے اٹھائے جا سکتے ہیں؟ یہ تو افغانیوں اور بھارتیوں کے ساتھ کھڑے ہوگئے ہیں
اسلام آباد(الفجر آن لائن) وزیردفاع خواجہ آصف نے کہاہے کہ میں کھل کر کہتا ہوں کہ یہ دہشتگردوں کے اتحادی بن چکے تھے اور ان کو صوبائی خزانے میں حصہ دار بنایا ہوا تھا،
افغانستان کی سرپرستی میں پاکستان میں جنگ لڑی جارہی ہے جبکہ ان کے سرپرست دہلی والے ہیں، مولانا نے کوششیں کیں لیکن صوبائی حکومت کی باتیں ناقابل برداشت تھیں۔
ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ آج کا 12 اکتوبر اور 12 اکتوبر1999 میں مطابقت صرف تاریخوں کی ہے، اس وقت ایک ڈکٹیٹر نے آئین توڑا، ایک حکومت کو فارغ کرکے 8سال حکمران رہا، ان دونوں تاریخوں میں مطابقت ڈھونڈنا کوئی مناسب نہیں ہے۔
پچھلے 78 سالوں میں آئین کے مطابق متعدد بار ایمرجنسی لگ چکی ہے،لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا کہ جب کسی حکومت کو معطل کیا ہو، بغیر کسی ابہام کے کہ وہ دشمن جو ہمارے ملک کے اندر بھی انتشار پیدا کررہے ہیں، پی ٹی آئی کو صوبے میں حکمرانی کرتے 13سال ہوگئے ہیں۔
انہوں نے کہا حکومت نے پوری کوشش کی کہ ایمرجنسی نافذ نہ لگانا پڑے۔ وزیراعلی اور ان کے ساتھ ارکان اسمبلی جس طرح کی زبان استعمال کررہے تھے وہ پاکستانی کی نہیں ملک دشمنوں کی زبان تھی۔
دو تین سالوں میں جب بھی دہشتگردی نے زور پکڑا ہے پی ٹی آئی کی حکومت نے کسی بھی اسٹیج پر دہشتگردی کے خلاف کوئی بیان نہیں دیا،طالبان اور افغانستان نے ہماری جغرافیائی حدود کی خلاف ورزی کی اس پر بیان نہیں دیا۔
بعض چیزیں قول وفعل سے پتا چلتی ہیں، ملک کیلئے جانیں دینے والوں کی توہین کرنا، جنازے نہ پڑنا۔
انہوں نے کہا کہ میں کھل کر کہوں گا کہ یہ دہشتگردوں کے اتحادی بن چکے تھے، ان کوقومی اور صوبائی خزانے میں حصہ دار بنایا ہوا تھا۔

