اسلام آباد(الفجرآن لائن)ایوان بالا میں تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر علی ظفر نے وفاقی بجٹ کو ظالمانہ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا ہے۔انہوں نے کہاکہ بجٹ میں عوام کیلئے کچھ بھی نہیں ہے،زرعی شعبے کو نظر انداز کیا گیا ہے۔
تعلیم اور صحت سمیت دیگر شعبوں کو خاطر خواہ فنڈز نہیں دئیے گئے ہیں۔منگل کو سینیٹ اجلاس کے دوران بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر علی ظفر نے کہاکہ ایران اور امریکہ کے مابین سمجھوتے کا خیر مقدم کرتے ہیں انہوں نے کہاکہ پوری دنیا کو اسرائیل اور انڈیا جیسی طاقتوں سے ہوشیار رہنا چاہیے کیونکہ یہ ممالک امن سمجھوتے کو سبوتاژ کر نے کی سازش کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ بجٹ کا فائدہ اوپر سے لیکر نچلے طبقے تک جانا چاہیے اور اس میں ملک کی ترقی کیلئے اقدامات ہونے چاہیے۔
یہ بجٹ اپنے مقاصد پر پورا نہیں اترتا ہے۔انہوں نے کہاکہ اس بجٹ میں 11عناصر کاخیال نہیں رکھا گیا ہے بجٹ میں معیشت کی بہتری کیلئے کوئی روڈ میپ نہیں ہے،صنعتوں کو بہتر بنانے کیلئے کوئی پالیسی نہیں ہے۔زرعی شعبے کیلئے کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے۔برآمدات کیلئے کوئی پلین نہیں ہے۔نوجوانوں اور آئی ٹی سیکٹر کی ترقی کیلئے کچھ نہیں ہے۔گردشی قرضوں کو کم کرنے کیلئے کوئی حکمت عملی نہیں ہے۔
ملک میں پانی کی قلت ہے اس حوالے سے کوئی پروگرام نہیں ہے۔موسمیاتی تبدیلیوں کو نظر انداز کیا گیا ہے۔بڑھتی ہوئی آبادی،تعلیم اور صحت کے حوالے سے بجٹ خاموش ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت ہر مسئلے کا حل آئی ایم ایف میں تلاش کرتی ہے
ملک میں ٹیکسیشن بڑھائی جارہی ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت نے پانچواں بجٹ پیش کیا ہے مگر اب تک ان کے بہانے ختم نہیں ہورہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ حکومت اپنی نااہلی اور سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ناکام ہوچکی ہے حکومت کے پاس عوام کا مینڈیٹ نہیں ہے قوم مہنگائی تلے پستی جارہی ہے اور یہ اپنی حکومت بچانے کے چکر میں ہے۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان کے سب سے مقبول لیڈر عمران خان کو عوام پسند کرتے ہیں۔وہ جیل میں اس قوم کی خاطر بیٹھے ہیں اور ہر ناانصافی کو برداشت کر رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ بجٹ کے بعد حکومت کو آخری بجٹ پیش کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔انہوں نے کہاکہ حکومت نے پانچ سالوں میں 10ریکارڈ توڑے ہیں مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے،قرضوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔سود کی ادائیگی میں بھی ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔بے روزگاری بڑھی ہے،بجلی کی قیمتیں زیادہ ہوئی ہیں۔
