کوئٹہ (الفجرآن لائن)اراکین بلوچستان اسمبلی نے جمعرات کو مالی سال 2026-27ء کے بجٹ پر عام بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ اس مشکل حالات میں جو بجٹ بنایا گیا وہ قابل تحسین ہے وفاق بلوچستان کے وسائل پر یہاں کے عوام کے حق ملکیت کو تسلیم کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ فنڈز فراہم کرے کیونکہ صوبے میں دہشت گردی جو بنیادی مسئلے کی شکل اختیار کر گئی ہے جس کی وجہ سے ترقی پر کافی اثرات مرتب ہورہے ہیں اس کا ازالہ کیا جاسکے اور ہم ہر قسم کی دہشت گردی کے خلاف ہیں۔
رکن صوبائی اسمبلی سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا ہے کہ عوام کو حق دیاجائے وفاقی بجٹ میں بلوچستان کی ایک بھی اسکیم نہیں ہے ان علاقوں کو صوبوں میں شامل کیاگیاہے جہاں حالات درست ہیں وفاقی حکومت جو کھیل کھیل رہی ہے وہ درست نہیں ہے این ایف سی ایوارڈ میں ترمیم لانے کی ضرورت تھی مگر پیپلز پارٹی آڑے آگئی بلوچستان کو گڈ گورننس کی ضرورت ہے، پہلا کام امن وامان کو برقراررکھناہے اور حکومت کو مسائل کے حل کو یقینی بنانے کے لئے سنجیدگی کے ساتھ اقدامات اٹھانا ہوں گے۔
بلوچستان اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر غزالہ گولہ کی صدارت میں 40 منٹ کی تاخیر سے تلاوت کلام پاک سے شروع ہوا۔جمعیت علماء اسلام کے رہنماء اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری نے کہا ہے کہ بجٹ میں شامل جاری اسکیموں کو اس سال میں مکمل کیاجائے
وفاقی بلوچستان کے ساتھ جو ظلم کررہاہے وہ درست نہیں بلوچستان اس کا حق وفاق سے نہیں مل رہاہے وفاق عوام پر بوجھ ڈال رہاہے قرضے وفاق لیتاہے اور مقروض ملک بھر کے غریب عوام ہورہے ہیں جو آئی ایم ایف سے قرضہ لیاجاتاہے دوسرے صوبوں میں خرچ ہوتاہے نئے مالی سال کے بجٹ سے بلوچستان خوشحال نہیں ہوگاآبادی کے تناسب سے تعلیمی اداروں کی تعداد بڑھنی چاہیے صحت کے بجٹ میں تمام اضلاع کے مسائل کو مدنظر رکھا جائے امن وامان پر رکھی گئی رقم خرچ ہونی چاہیے تاکہ امن قائم ہو اور عوام کی زندگیاں محفوظ بن سکیں
۔ ملازمین کے مسائل حل کئے جائیں ان پر آنسو گیس استعمال ہورہی ہے مل بیٹھ کر مسائل حل کئے جائیں 5000 ہزار نوکریوں سے بیروزگاری ختم نہیں ہوگی گزشتہ بار مشتہر کی گئی نوکریوں پر تقرریاں نہیں ہوسکیں ہیں بھرتیاں کیوں نہیں ہورہیں اس حوالے سے متعلقہ افسران سے پوچھا جائے بارڈر کی بندش سے لاکھوں لوگ متاثر ہوئے ہیں بارڈر کو کھول دیں تاکہ لوگوں کو روزگار ملے اور ان کے گھر کا چولہا جل سکے انہوں نے کہا کہ ہم اسمگلنگ کی بات نہیں کررہے ہیں لیگل ٹریڈ کی آزادی دی جائے لاہور کے ساتھ بارڈر کھلے ہوئے ہیں اور یہاں دہشت گردی ہورہی ہے پاکستان بلوچستان کے وسائل پر چل رہاہے ہمارے ٹیکسوں کا کوئی فائدہ یہاں کے لوگوں کو نہیں مل رہاہے صوبے کے حالات کے مطابق بجٹ خرچ کیاجا ناچاہئے۔
