قطر ( ویب ڈیسک)قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ تکنیکی مذاکرات کا اختتام ہو گیا ہے، جس کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز میں کشیدگی کو کم کرنا اور خطے میں بحری جہاز رانی کو محفوظ بنانا ہے۔ قطر اور پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے ان مذاکرات میں گزشتہ دنوں ہونے والی فوجی جھڑپوں کے بعد صورتحال کو سنبھالنے اور 17 جون کو طے پانے والے 14 نکاتی عبوری معاہدے کو برقرار رکھنے پر توجہ دی گئی۔
امن قائم رکھنے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت اور مانیٹرنگ کا نیا نظام
مذاکرات کے بعد دونوں فریقین نے آنے والے ایک ہفتے کے دوران مکمل طور پر "خاموشی اختیار کرنے” یعنی کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی سے گریز کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ ایرانی وفد کے سربراہ اور نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی کے مطابق، معاہدے کی خلاف ورزیوں پر نظر رکھنے کے لیے ایک خصوصی ہاٹ لائن اور مانیٹرنگ میکانزم قائم کیا جائے گا۔ امریکی وفد، جس میں سینئر ایلچی جیرڈ کوشنر اور اسٹیو وٹکوف شامل ہیں، نے ایرانی حکام سے براہ راست ملاقات نہیں کی بلکہ قطری حکام کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ کیا۔
آبنائے ہرمز کا کنٹرول اور منجمد اثاثوں کی واپسی پر اختلافات
مذاکرات میں جہاں کچھ پیش رفت ہوئی، وہاں اہم امور پر تاحال اختلافات برقرار ہیں۔ ایران آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول، بحری جہازوں پر ٹیکس لگانے کا حق اور بارودی سرنگیں ہٹانے کا اختیار مانگ رہا ہے، جبکہ امریکہ کا اصرار ہے کہ یہ بین الاقوامی تجارتی راستہ ہے اور یہاں تمام ممالک کے جہازوں کو بلا روک ٹوک گزرنے کی آزادی ہونی چاہیے۔ اس کے علاوہ قطر میں موجود ایران کے 6 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کی بحالی بھی زیر بحث آئی، جس میں سے ابتدائی طور پر 3 ارب ڈالر جاری کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، تاہم امریکہ نے شرط رکھی ہے کہ یہ رقم صرف امریکی اشیاء خریدنے کے لیے استعمال ہو سکے گی۔
عالمی منڈی پر اثرات اور تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی
دوحہ مذاکرات کی کامیابی کی خبریں سامنے آتے ہی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں چار ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئیں۔ امریکی ڈبلیو ٹی آئی (WTI) خام تیل کی قیمت کم ہو کر 69 ڈالر فی بیرل سے نیچے چلی گئی ہے، جس سے عالمی معیشت اور توانائی کے شعبے کو بڑی راحت ملی ہے۔ اگرچہ خطے میں جنگ کے بادل چھٹ رہے ہیں، لیکن آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمد و رفت اب بھی معمول پر نہیں آ سکی ہے اور بحری راستوں کی حفاظت کے لیے دونوں ممالک کے اگلے اقدامات انتہائی اہم ہوں گے
