اسلام آباد (الفجر آن لائن) وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے مالی سال 2025-26 کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے نظرثانی شدہ محصولات کا سالانہ ہدف کامیابی سے حاصل کرنے پر ادارے کی کارکردگی کو تاریخی سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کامیابی مؤثر اصلاحات، مضبوط قیادت، ٹیم ورک اور ملک بھر میں تعینات افسران و اہلکاروں کی انتھک محنت کا نتیجہ ہے۔ایف بی آر ہیڈکوارٹرز میں منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال اور ادارے کی پوری ٹیم کو مبارکباد پہنچائی۔ اجلاس میں ایف بی آر کے بورڈ ارکان، سینئر افسران، چیف کمشنرز اور چیف کلیکٹرز نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی برس کے دوران حکومت کے اصلاحاتی اقدامات کے باعث قومی محصولات میں تقریباً دوگنا اضافہ ہوا، جو پاکستان کی مالیاتی تاریخ کی نمایاں کامیابیوں میں شمار ہوتا ہے۔ ان کے مطابق محصولات میں اضافے اور مالیاتی نظم و ضبط کی بدولت بیرونی شعبے کے معاشی اشاریے بہتر ہوئے، ملک نے اپنی تاریخ کا کم ترین مالیاتی خسارہ اور سب سے بڑا پرائمری سرپلس بھی حاصل کیا۔وزیر خزانہ نے ان لینڈ ریونیو اور کسٹمز ونگ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ٹیرف میں ریلیف دینے کے باوجود ایف بی آر نے محصولات میں نمایاں اضافہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مالی سال کے دوران 599 ارب روپے کے ٹیکس ریفنڈز جاری کیے گئے، جن میں آخری روز ریکارڈ 13.5 ارب روپے کی ادائیگی بھی شامل تھی، جو کاروباری برادری اور برآمدکنندگان کے لیے حکومت کے سہولت کاری کے عزم کی عکاسی کرتی ہے
