برسلز( ویب ڈیسک) یورپی یونین کی سب سے بڑی عدالت نے ٹیک جائنٹ گوگل اور اس کی پیرنٹ کمپنی الفابیٹ کی آخری قانونی اپیل کو باضابطہ طور پر خارج کر دیا ہے۔ عدالت نے مارکیٹ میں غلبے کا ناجائز فائدہ اٹھانے پر عائد 4.125 ارب یورو ($4.7 ارب) کا ریکارڈ اینٹی ٹرسٹ جرمانہ مستقل طور پر برقرار رکھا ہے۔ یورپ کی اعلیٰ ترین عدالت کا یہ حتمی فیصلہ کئی برسوں سے جاری شدید قانونی جنگ کا خاتمہ ہے، جس نے یورپی کمیشن کے ان ٹھوس شواہد پر مہر لگا دی ہے کہ گوگل نے سرچ انجن مارکیٹ میں اپنی عالمی اجارہ داری کو برقرار رکھنے کے لیے حریف کمپنیوں کو آگے بڑھنے سے روکا۔
یہ تاریخی کیس 2018 میں اس وقت شروع ہوا جب یورپی یونین کے ریگولیٹرز نے گوگل پر اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم کے ذریعے مارکیٹ میں غیر منصفانہ مسابقت کو نقصان پہنچانے کے الزام میں 4.34 ارب یورو کا جرمانہ عائد کیا تھا۔ اگرچہ سال 2022 میں یورپی یونین کے ایک لوئر ٹریبونل نے خلاف ورزی کی درست مدت اور نوعیت کا جائزہ لے کر جرمانے کو معمولی کمی کے ساتھ 4.125 ارب یورو کر دیا تھا، مگر کیس کی بنیادی حیثیت برقرار رہی۔ تحقیقات کاروں نے ثابت کیا کہ گوگل نے اپنے پلے اسٹور کے لائسنس کو گوگل سرچ اور کروم براؤزر کی لازمی تنصیب سے مشروط کر کے اسمارٹ فون بنانے والی کمپنیوں کو مجبور کیا کہ وہ دنیا بھر کے اربوں موبائلز میں پہلے سے گوگل کا پورا ایکو سسٹم شامل کریں۔
مزید برآں، اعلیٰ عدالت نے ان تحقیقاتی نتائج کو بھی درست قرار دیا کہ گوگل نے اپنے ہارڈ ویئر پارٹنرز پر اینٹی فریگمنٹیشن پابندیاں عائد کر کے اوپن سورس ایجادات کا راستہ روکا۔ جو کمپنیاں گوگل کی ایپس استعمال کرنا چاہتی تھیں، انہیں اینڈرائیڈ کے متبادل یا آزادانہ ورژنز پر چلنے والے اسمارٹ فونز بیچنے سے سختی سے منع کر دیا گیا۔ گوگل نے اس کے ساتھ ساتھ دنیا کے بڑے نیٹ ورک آپریٹرز اور موبائل مینوفیکچررز کو براہ راست مالی فوائد اور خصوصی ادائیگیاں بھی فراہم کیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی دوسرا سرچ انجن نئے فونز پر ابتدائی جگہ بھی حاصل نہ کر پائے۔
اس حتمی فیصلے کے بعد گوگل نے شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کے بزنس ماڈل نے ہمیشہ ٹیکنالوجی کی دنیا میں جدت کو فروغ دیا ہے۔ کمپنی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اینڈرائیڈ نے صارفین کو پہلے سے زیادہ انتخاب کے مواقع دیے ہیں اور وہ ریگولیٹرز کے تحفظات کو دور کرنے کے لیے 2018 میں ہی یورپ میں اپنے سافٹ ویئر لائسنسنگ کے طریقہ کار کو تبدیل کر چکے ہیں۔ تاہم، عدالت کا یہ حتمی فیصلہ دنیا بھر میں ٹیک ریگولیشن کے لیے ایک بڑا سنگ میل ہے، جو یورپی یونین کو اپنے نئے ‘ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ’ کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داریوں کے خلاف مزید جارحانہ کارروائیاں کرنے کی طاقت دے گا
