اسلام آباد(الفجرآن لائن)سپریم جوڈیشل کونسل میں چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم کے خلاف شکایت دائرکردی گئی۔سابق صدر ملتان ہائیکورٹ بار سید ریاض الحسن گیلانی نے سپریم جوڈیشل کونسل میں درخواست دائر کر کے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو عہدے سے ہٹانے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی استدعا کر دی ہے۔
شکایت میں بدانتظامی، آئینی خلاف ورزیوں اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔درخواست گزار کے مطابق 27 جولائی 2026 سے لاہور ہائیکورٹ کے تینوں بنچز راولپنڈی، بہاولپور اور ملتان ججز کی عدم دستیابی کے باعث مکمل طور پر بند ہیں۔
شکایت میں کہا گیا ہے کہ 1981 میں بنچز کے قیام کے بعد لاہور ہائیکورٹ کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ تینوں بنچز ایک ساتھ بند ہوئے ہیں۔
موقف اختیار کیا گیا کہ بنچز کی بندش آئین کی سنگین خلاف ورزی ہے اور بدانتظامی و نااہلی کے باعث سائلین کے لیے انصاف کا حصول ناممکن ہو چکا ہے۔شکایت میں مالی بے ضابطگیوں کا بھی ذکر کیا گیا۔
موقف اپنایا گیا کہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے تقریبا 2000 سرکاری گاڑیاں سیشن اور سول ججز کو صرف 2 لاکھ 50 ہزار روپے فی گاڑی کے حساب سے منتقل کیں۔
شکایت میں کہا گیا کہ اربوں روپے مالیت کی یہ گاڑیاں "کوڑیوں کے بھا” فروخت کی گئیں جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا۔ درخواست گزار نے کہا کہ چیف جسٹس کے پاس سرکاری پراپرٹی کو ذاتی ملکیت کی طرح منتقل کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔
سائلین سے فیسوں کی وصولی پر بھی اعتراض اٹھایا گیا۔ شکایت کے مطابق 7 جنوری 2026 کے نوٹیفکیشن کے تحت ہر سائل سے 200 روپے بائیو میٹرک فیس وصول کی جا رہی ہے۔
اس رقم میں سے 60 روپے متعلقہ بار ایسوسی ایشن اور 20 روپے ہائیکورٹ و ڈسٹرکٹ جوڈیشری کے ملازمین کو مالی امداد کے نام پر دیے جا رہے ہیں۔ موقف اختیار کیا گیا کہ آئین کے تحت کوئی بھی ٹیکس یا فیس عائد کرنا صرف پارلیمنٹ یا حکومت کا اختیار ہے۔
درخواست میں 3 دسمبر 2024 کے سرکولر کو بھی چیلنج کیا گیا جس میں ہائیکورٹ سے رجوع سے قبل گریوانس ریڈریسل کمیٹی اور سکروٹنی کمیٹی سے رجوع لازمی قرار دیا گیا تھا

