اسلام آباد(الفجرآن لائن)چین کی جانب سے ٹڈی دل پر قابو پانے کے لیے پاکستان کو عطیہ کی گئی 91 کروڑ 89 لاکھ 80 ہزار 310 روپے سے زائد مالیت کی کیڑے مار ادویات استعمال نہ ہونے کے باعث ایکسپائر ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔
معاملے نے سرکاری اداروں کی کارکردگی، ذخیرہ اندوزی اور ہنگامی حالات میں وسائل کے مؤثر استعمال پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
دستاویزات کے مطابق عطیہ میں ملنے والی مہنگی کیڑے مار ادویات نہ تو بروقت استعمال کی گئیں اور نہ ہی ضرورت رکھنے والے کسی دوسرے ادارے کو منتقل کیا گیا، جس کے نتیجے میں لاکھوں لیٹر ادویات اپنی میعاد پوری کر گئیں۔
یہ انکشاف آڈیٹر جنرل کی آڈٹ رپورٹ 2024-25 میں سامنے آیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق محکمہ تحفظ نباتات کراچی نے مالی سال 2019-20 میں ٹڈی دل کے حملوں سے نمٹنے کے لیے کیڑے مار ادویات خریدیں، جبکہ ستمبر 2020 میں نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے ذریعے چین سے بھی بڑی مقدار میں کیڑے مار ادویات بطور عطیہ موصول ہوئیں۔
آڈٹ رپورٹ کے مطابق مالاتھیون یو ایل وی 95 فیصد، مالاتھیون یو ایل وی 96 فیصد اور لیمبڈا یو ایل وی کی بڑی مقدار استعمال نہ ہونے کے باعث ایکسپائر ہو گئی، جن کی مجموعی مالیت 918,980,310 روپے ریکارڈ کی گئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انتظامیہ کی غفلت کے باعث قیمتی عطیہ ضائع ہوا، جبکہ آڈٹ کی جانب سے جواب طلب کیے جانے کے باوجود محکمہ تحفظ نباتات نے رپورٹ کو حتمی شکل دیے جانے تک کوئی مقف جمع نہیں کرایا۔
آڈٹ نے سفارش کی ہے کہ ذمہ دار افسران کا تعین کر کے ان کے خلاف کارروائی کی جائے اور ایکسپائر شدہ کیڑے مار ادویات کو ماحولیاتی اصولوں کے مطابق محفوظ طریقے سے فوری تلف کیا جائے

