کوئٹہ (الفجرآن لائن) ضلع زیارت میں واقع مانگی ڈیم پمپنگ اسٹیشن پر ہونے والے دہشت گردی کے المناک حملے کی تحقیقات کے لیے قائم کردہ جوڈیشل کمیشن کی کارروائی میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ جمعرات کے روز جسٹس محمد عامر نواز رانا کی سربراہی میں کمیشن نے کھلی عدالت میں کیس کی باقاعدہ سماعت کی، جس کے دوران واقعے سے جڑے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا اور اہم شہادتیں ریکارڈ کی گئیں۔
سماعت کے آغاز پر عدالت میں موجود گواہان نے باری باری اپنے بیانات قلمبند کروائے۔ کمیشن نے گواہوں کے بیانات کی روشنی میں واقعے کے محرکات اور پمپنگ اسٹیشن کی سیکیورٹی میں ممکنہ کوتاہیوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر سیکیورٹی اداروں کے اعلیٰ حکام اور حملے کے وقت موقع پر موجود افراد کے بیانات کو بھی کیس کے ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا۔
دورانِ سماعت نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) بلوچستان زون کوئٹہ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر کمیشن کے گزشتہ حکم کی تعمیل کرتے ہوئے ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہوئے۔ انہوں نے سائبر کرائم ایجنسی کی جانب سے حملے کے ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا سے جڑے پہلوؤں پر تیار کردہ ایک جامع انویسٹی گیشن رپورٹ کمیشن کے سامنے جمع کروائی۔
تحقیقاتی کمیشن نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کی رپورٹ کا ابتدائی جائزہ لینے کے بعد وفاقی حکومت کو اہم احکامات جاری کیے۔ کمیشن نے ہدایت کی ہے کہ کیس کی اگلی سماعت پر سیکرٹری داخلہ، حکومتِ پاکستان ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہوں۔ انہیں "پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) 2016” کی دفعہ 37 کے تحت وضع کردہ قوانین اور اب تک کی جانے والی کارروائیوں پر ایک تفصیلی رپورٹ بھی ساتھ لانے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ کمیشن کی قانونی معاونت کی جا سکے۔

