پشاور(الفجر آن لائن) 9 مئی ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، پولیس نے فرانزک اور نادرا رپورٹس کی بنیاد پر خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں کو مقدمے میں نامزد کردیا ہے۔
پولیس کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی عدالت میں جمع کرائی گئی پیش رفت رپورٹ کے مطابق فرانزک جانچ اور نادرا ریکارڈ کی روشنی میں دستیاب ویڈیوز اور تصاویر کا جائزہ لیا گیا، جس کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت دیگر افراد کو مقدمے میں نامزد کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے علاوہ تیمور سلیم جھگڑا، کامران بنگش اور عرفان سلیم کے نام بھی کیس میں شامل کیے گئے ہیں۔
انسدادِ دہشت گردی عدالت نے تفتیشی افسر کو ضمنی چالان جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔
ریڈیو پاکستان کے وکیل شبیر حسین گگیانی نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگر مقدمے میں سزا ہوتی ہے تو وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو وزارتِ اعلیٰ سے ہاتھ دھونا پڑ سکتے ہیں،
جبکہ انہوں نے صوبائی حکومت کے خاتمے اور تاحیات نااہلی کے امکان کا بھی ذکر کیا ہے۔ یہ قانونی نتائج وکیل کا مؤقف ہیں، عدالتی فیصلہ نہیں۔9 مئی 2023 کو پشاور میں ریڈیو پاکستان کی عمارت پر حملے اور توڑ پھوڑ کے مقدمے میں تقریباً 75 افراد پہلے ہی ٹرائل کا سامنا کر رہے ہیں۔

