اسلام آباد (الفجرآن لائن) پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان مالیاتی اہداف اور ٹیکس وصولیوں کے جائزے کے دوران زرعی آمدن ٹیکس کی وصولی اور ایف بی آر کے سالانہ ٹیکس ہدف کے حصول سے متعلق سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے گزشتہ مالی سال مقررہ اہداف حاصل نہ ہونے پر تفصیلات طلب کی ہیں، جبکہ رواں مالی سال کے اہداف کے حصول کے حوالے سے بھی وضاحت مانگی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق زرعی آمدن ٹیکس کی شرح 15 فیصد سے بڑھا کر 45 فیصد کی گئی ہے تاہم گزشتہ مالی سال متعدد صوبے زرعی آمدن ٹیکس وصولی کے مقررہ اہداف حاصل نہیں کرسکے۔
ذرائع کے مطابق سندھ نے گزشتہ مالی سال 2 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں صرف 1.1 ارب روپے زرعی آمدن ٹیکس وصول کیا، جبکہ رواں مالی سال صوبے کے لیے 6 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال بھی سندھ کی زرعی آمدن ٹیکس وصولی مقررہ ہدف سے کم رہنے کا خدشہ ہے۔
پنجاب میں بھی گزشتہ مالی سال 10.5 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 4 ارب روپے زرعی آمدن ٹیکس وصول کیا گیا۔
رواں مالی سال پنجاب کے لیے زرعی آمدن ٹیکس کا ہدف 12.5 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے ایف بی آر سے گزشتہ مالی سال نظرثانی شدہ ٹیکس ہدف حاصل نہ ہونے پر بھی سوالات کیے۔
ایف بی آر گزشتہ مالی سال نظرثانی شدہ ٹیکس ہدف سے 929 ارب روپے پیچھے رہا۔
ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے ڈیجیٹل انوائسنگ، پیداواری لائنز کی مانیٹرنگ اور دیگر اصلاحاتی اقدامات سے متعلق اہم اہداف حاصل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
ایف بی آر نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کا 7 ہزار ارب روپے کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی۔
تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر نے سالانہ 15.263 ٹریلین روپے کے ٹیکس ہدف کے حصول کی حتمی یقین دہانی نہیں کرائی اور سالانہ ہدف کے حصول کو علاقائی سیکیورٹی صورتحال سے بھی مشروط کیا ہے۔

