اسلام آباد (الفجر آن لائن) سپریم کورٹ نے اپنے ہی سینئر ریسرچ آفیسر کی جانب سے ہراساں کیے جانے کے الزامات کے معاملہ کی سماعت کے دوران درخواست گزار کو دستاویزات جمع کرانے کے لیے مہلت دیتے ہوئے سخت برہمی کا اظہاربھی کیاہے
اور جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ خود ہی مدعی، خود ہی جج کا کام نہیں ہونا چاہیے، تاثر نہیں جانا چاہیے کہ عدالت نے آپ کو فیور دی، آپ کی جگہ بہتر ہوتا کہ وکیل پیش ہوتا۔
ہمارے سامنے خاموش نہیں ہو رہے تو وہاں کیا کرتے ہوں گے، ادھر تو بادشاہ بنے ہوں گے۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ اگر شہرت خراب ہوتی تو آپ نوکری نہ کر رہے ہوتے، ایسا نہ ہو کہ آپ نوکری سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں، بعض اوقات زیادہ قابلیت بھی نقصان دہ ہوتی ہے اصل معاملہ تو گھر الاٹمنٹ کا تھا، آپ نے دھونس لگائی ہو گی۔
انھوں نے یہ ریمارکس پیرکے روزدیے ہیں۔سینئر ریسرچ آفیسر ڈاکٹر وسیم طارق کی درخواست پر جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس نعیم اختر افغان پر مشتمل بینچ نے سماعت کی۔
درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ اس پر ہراساں کرنے کا الزام لگایا گیا، شکایت کنندگان اسٹیٹ آفس کے ملازمین تھے، اس کے خلاف انکوائری بھی ہوئی جس میں اس کے خلاف کچھ نہیں نکلا۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ اصل معاملہ تو گھر الاٹمنٹ کا تھا، آپ نے دھونس لگائی ہو گی۔
دوران سماعت خاموشی اختیار نہ کرنے پر عدالت اپنے ریسرچ آفیسر پر برہم ہو گئی۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ بہتر ہوگا کہ اپنے کام پر توجہ دیں، ہمارے سامنے خاموش نہیں ہو رہے تو وہاں کیا کرتے ہوں گے، ادھر تو بادشاہ بنے ہوں گے۔
درخواست گزار نے کہا کہ چیف جسٹس کے آفس پر الزام کی وجہ سے میں خود پیروی کر رہا ہوں، اس سارے معاملے سے میری شہرت خراب ہوئی۔
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ خود ہی مدعی، خود ہی جج کا کام نہیں ہونا چاہیے، تاثر نہیں جانا چاہیے کہ عدالت نے آپ کو فیور دی، آپ کی جگہ بہتر ہوتا کہ وکیل پیش ہوتا۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ اگر شہرت خراب ہوتی تو آپ نوکری نہ کر رہے ہوتے، ایسا نہ ہو کہ آپ نوکری سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں، بعض اوقات زیادہ قابلیت بھی نقصان دہ ہوتی ہے۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔

