اسلام آباد(الفجرآن لائن) رواں سال جولائی میں ایئرویز کے کارگو طیارے کو پیش آنے والے حادثے کے بعد طیارے کے زیرِ آب ملبے اور بلیک باکس کی تلاش کے لیے پاک بحریہ کی جانب سے گزشتہ دو ماہ سے مسلسل اور وسیع پیمانے پر آپریشن جاری ہے۔
انتہائی مشکل اور پیچیدہ سمندری حالات اور تقریباً 3200 میٹر کی گہرائی کے باعث جاری اس آپریشن میں پاک بحریہ نے اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کے بلیک باکس کے مقام کی نشاندہی کرلی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاک بحریہ کے جہازوں نے نیشنل انجینئرنگ اینڈ سائنٹفک کمیشن (NESCOM) کے تیار کردہ خصوصی آلات کی مدد سے سمندر کی انتہائی گہرائی میں موجود طیارے کے ملبے کے مقام کا سراغ لگایا۔
جدید آلات اور تکنیکی صلاحیتوں کے استعمال کے ذریعے بلیک باکس کی موجودگی کے مقام کی نشاندہی کی گئی۔پاک بحریہ کی جانب سے بلیک باکس کی کامیاب نشاندہی سے متعلق تمام اہم معلومات بیورو آف ائیر سیفٹی انوسٹیگیشن کو فراہم کردی گئی ہیں، جو طیارے کے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کررہا ہے۔
سمندر کی تقریباً 3200 میٹر گہرائی میں طیارے کے بلیک باکس کی نشاندہی کو پاک بحریہ کی زیرِ آب سرچ صلاحیتوں کے حوالے سے اپنی نوعیت کا پہلا آپریشن قرار دیا جا رہا ہے۔
دشوار گزار سمندری ماحول، انتہائی گہرائی اور تکنیکی پیچیدگیوں کے باوجود پاک بحریہ کے مسلسل آپریشن کے نتیجے میں بلیک باکس کے مقام تک رسائی حادثے کی تحقیقات میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
بلیک باکس کی مزید بازیابی اور اس سے حاصل ہونے والے ڈیٹا سے حادثے کے اسباب، پرواز کے آخری لمحات اور دیگر اہم تکنیکی تفصیلات جاننے میں مدد مل سکتی ہے۔
تاہم حادثے کی حتمی وجوہات کا تعین متعلقہ تحقیقاتی ادارے کی تحقیقات اور بلیک باکس کے ڈیٹا کے تجزیے کے بعد ہی ممکن ہوگا

