گورنر بلوچستان // اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور تمام کمرشل بینکوں کے ریجنل ہیڈز
بینکوں کی جانب سے قرضوں کی فراہمی کے عمل میں بلوچستان کے عوام پر دیگر صوبوں کے برابر ٹیکسز کا اطلاق یقینی بنایا جائے۔
اس سلسلے میں فنانس، ریونیو اور دیگر متعلقہ تمام محکمے اپنا فعال کردار ادا کرتے ہوئے اپنی کارکردگی مزید بہتر اور موثر بنائیں۔
اس معاملے میں کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائیگی۔ گورنر مندوخیل نے بینکوں کو ہدایت کی کہ عوامی شعور و آگہی کی ۔
بھرپور مہم چلائیں اور تمام اہم مقامات پر پینافلیکس آویزاں کیے جائیں ہم حکومت بلوچستان کی سطح پر تمام متعلقہ محکموں کو بھی زیادہ فعال اور متحرک بنا رہے ہیں
کوئٹہ(الفجرآن لائن)ستمبر29 گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور تمام کمرشل بینکوں کے ریجنل ہیڈز کی گورنر ہاؤس کوئٹہ میں میٹنگ بلائی جس میں وزیراعظم پاکستان کے ” اپنا گھر پروگرام ” کے تحت عوام کو فراہم کیے جانے والے ہاؤسنگ فنانس، قرضوں کے حصول کے طریقہ کار اور دیگر اضلاع تک وسعت دینے اور اس اسکیم سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو مستفید کرنے کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران گورنر بلوچستان نے کہا کہ بینکوں کی جانب سے قرضوں کی فراہمی کے عمل میں بلوچستان کے عوام پر دیگر صوبوں کے برابر ٹیکسز کا اطلاق یقینی بنایا جائے۔
اس سلسلے میں فنانس، ریونیو اور دیگر متعلقہ تمام محکمے اپنا فعال کردار ادا کرتے ہوئے اپنی کارکردگی مزید بہتر اور موثر بنائیں۔ اس معاملے
میں کسی بھی قسم کی غفلت یا کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائیگی گورنر مندوخیل نے کہا کہ اپنا گھر پروگرام کم اور متوسط آمدنی والے افراد کیلئے ایک اہم سہولت ہے۔
حکومت کی جانب سے رعایتی ہاؤسنگ فنانس کا مقصد شہریوں کو گھر خریدنے، اپنے پلاٹ پر گھر تعمیر کرنے یا گھر کی تعمیر کیلئے مالی معاونت فراہم کرنا ہے۔ گورنر مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان میں بہت سے لوگ بینکنگ سسٹم، قرضوں کے طریقہ کار، مطلوبہ دستاویزات اور درخواست جمع کرانے کے مراحل سے نابلد ہیں۔
گورنر مندوخیل نے بینکوں کو ہدایت کی کہ عوامی شعور و آگہی کی بھرپور مہم چلائیں اور پروگرام کی معلومات آسان زبان میں عوام تک پہنچائی جائیں۔
بینکوں کی شاخوں کے علاوہ دیگر اہم مقامات پر پینافلیکس آویزاں کیے جائیں تاکہ شہریوں کو درخواست کے طریقہ کار اور متعلقہ بینکوں سے رابطے کے بارے میں واضح معلومات دستیاب ہوں۔
گورنربلوچستان نے کہا کہ بلوچستان میں اس اسکیم کے تحت قرض حاصل کرنے والے افراد کی تعداد بہت کم ہے۔
اس ضمن میں انہوں نے بینکوں کے ریجنل سربراہان کو ہدایت کی کہ قرضوں کی فراہمی کے عمل میں تیزی لائی جائے اور آن لائن سہولت بھی آسان بنائی جائے تاکہ دور دراز علاقوں کے شہری بھی درست رہنمائی حاصل کر سکیں۔
گورنر مندوخیل نے کہا کہ ہم حکومت بلوچستان کی سطح پر تمام متعلقہ محکموں کو بھی زیادہ فعال اور متحرک بنائیں گے تاکہ زمین، دستاویزات اور دیگر متعلقہ معاملات میں ممکنہ رکاوٹوں کو کم کیا جا سکے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ چھ ہفتے بعد دوبارہ اجلاس منعقد کیا جائے جس میں تمام متعلقہ بینک اپنے اپنے علاقوں میں پروگرام کی پیش رفت، موصول ہونے والی درخواستوں، منظور شدہ اور فراہم کیے گئے قرضوں، عوامی آگاہی اقدامات اور درپیش رکاوٹوں کے حوالے سے اپنی کارکردگی رپورٹ پیش کرینگے۔

