خیبر پختونخوا حکومت شہریوں کے جان و مال کا تحفظ نہیں کر سکتی تو یہ اس کی مکمل ناکامی ہے، دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے بجائے دہشت گردوں کو اسپیس دی جا رہی ہے، عطا ء اللہ تارڑ
اسلام آباد(نمائندہ خصوصی محمد ثاقب خان،سدوزئی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا ء اللہ تارڑ نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی انسدادِ دہشت گردی پالیسی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر خیبر پختونخوا حکومت اپنے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ نہیں کر سکتی تو یہ اس کی مکمل ناکامی ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے بجائے دہشت گردوں کو اسپیس دی جا رہی ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ”ایکس“ پر اپنے بیان میں عطا تارڑ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے ہر معاملے میں تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کا مؤقف اب پرانا عذر بن چکا ہے۔
ان کے مطابق وفاقی حکومت نے مشترکہ حکمت عملی اور مشاورت کے لیے تجاویز دیں، تاہم پی ٹی آئی نے ان کا جواب نہیں دیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اب خیبر پختونخوا حکومت وفاق کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ طریقہ کار کی بات کر رہی ہے تاہم ان کے بقول یہ اقدام صوبے میں اپنی سیاسی پوزیشن بچانے کی حکمت عملی کے طور پر کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے پی ٹی آئی کے دہشت گردی سے متعلق بیانیے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ بظاہر اس کی پالیسی صوبے میں دہشت گردی کے پھیلاؤ کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔
عطا تارڑ نے سوال اٹھایا کہ خیبر پختونخوا حکومت وفاقی ایپکس کمیٹی کے اجلاسوں میں شرکت کیوں نہیں کرتی اور خود صوبائی ایپکس کمیٹی کے اجلاس باقاعدگی سے کیوں نہیں بلاتی۔
انہوں نے کہا کہ دیگر صوبوں کی طرح خیبر پختونخوا میں بھی دہشت گردی کی صورتحال کا ادارہ جاتی سطح پر جائزہ لینے اور مؤثر اقدامات کے لیے ایپکس کمیٹی کے اجلاس ہونے چاہئیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید سوال کیا کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ اور ان کی کابینہ پاکستان میں دہشت گردی کی مبینہ سرپرستی اور سرحد پار حملوں پر افغان طالبان حکومت کی مذمت کیوں نہیں کرتے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج، پولیس اور دیگر سکیورٹی اداروں کے ہزاروں اہلکار جانوں کی قربانیاں دے چکے ہیں، اس لیے صوبائی حکومت کو سکیورٹی فورسز کے ساتھ واضح یکجہتی کا اظہار کرنا چاہیے۔
عطا تارڑ نے سوال کیا کہ پی ٹی آئی رہنما شہید ہونے والے سکیورٹی اہلکاروں کے جنازوں میں کیوں شریک نہیں ہوتے اور سکیورٹی فورسز و پولیس کی چوکیوں کا دورہ کرکے ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیوں نہیں کرتے۔
انہوں نے سابق فاٹا کے علاقوں میں قیامِ امن، انتظامی معاملات اور ترقیاتی مسائل میں دلچسپی کے حوالے سے بھی پی ٹی آئی قیادت سے سوالات کیے

