لاہور(الفجرآن لائن)لاہور ہائیکورٹ نے خاتون قتل کیس میں صلح کے وقت دو شوہر سامنے آنے پرقانونی ورثا کے تعین کا حکم دے دیاجبکہ اپنے فیصلے میں یہ بھی قرار دیا ہے کہ اگر شواہد سے غیرت کے نام یا غیرت کے بہانے قتل ثابت ہوا تو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 311 کے تحت صرف ورثا کی صلح کی بنیاد پر ملزم کی بریت لازم نہیں ہوگی بلکہ عدالت تعزیری سزا بھی دے سکتی ہے،
ہائیکورٹ نے قانونی ورثا کے تعین تک صلح کی درخواست پر حتمی فیصلہ مؤ خر کرتے ہوئے معاملہ سیشن جج بہاولنگر کو واپس بھجوا دیا اور تین ہفتوں میں رپورٹ طلب کر لی۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے مقتولہ سمیرا بی بی کے قتل کے مقدمے میں ملزم مقصود احمد کی درخواست پر 9 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا،
عدالت نے سیشن جج بہاولنگر کو شاہد اور ممتاز احمد کے متضاد دعوں کی مکمل انکوائری کر کے متعلقہ دستاویزات اور شہادتیں ریکارڈ کرنے اور تین ہفتوں میں رپورٹ ہائیکورٹ میں پیش کرنے کا حکم دیا۔
فیصلے کے مطابق سمیرا بی بی کو 5 جون 2018 کو چک قاسمکا میں کلہاڑی کے وار کر کے قتل کیا گیا تھا،
مقتولہ کے والد اللہ دتہ کی درخواست پر تھانہ تخت محل بہاولنگر میں مقدمہ درج ہوا،
ٹرائل کورٹ نے 15 مئی 2019 کو مقصود احمد کو دفعہ 302(ب) تعزیرات پاکستان کے تحت عمر قید اور دو لاکھ روپے معاوضے کی سزا سنائی، جبکہ شریک ملزم نیاز احمد کو بری کر دیا تھا۔
ملزم نے سزا کے خلاف ہائیکورٹ سے رجوع کیا اور دوران اپیل مقتولہ کے والدین سے صلح کی بنیاد پر دفعہ 345 ضابطہ فوجداری کے تحت بریت کی درخواست دائر کی،
تاہم صلح کے وقت مقتولہ کے قانونی وارث ہونے کے معاملے پر تنازع سامنے آگیا، مقتولہ کے والدین نے شاہد کو سمیرا کا شوہر قرار دیا،
جبکہ ممتاز احمد نے دعوی کیا کہ شاہد سے سمیرا کی شادی فیملی کورٹ کے ذریعے ختم ہو چکی تھی اور اس نے 17 اگست 2017 کو سمیرا سے شادی کی، اس لیے وہ اس کا قانونی شوہر اور وارث ہے۔
ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ قتل کے مقدمے میں صلح اور حقِ قصاص سے دستبرداری کیلئے حقیقی قانونی ورثا کی رضامندی بنیادی شرط ہے، اگر قانونی وارث ہونے کا تنازع موجود ہو تو عدالت پر لازم ہے کہ پہلے انکوائری کر کے حقیقی ورثا کا تعین کرے

