تحریر: محمد ثاقب خان سدوزئی
بلوچستان جیسے وسیع و عریض، دشوار گزار اور طویل عرصے سے مختلف مسائل کا شکار صوبے میں حکومت چلانا محض انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک بڑا سیاسی، سماجی اور قومی چیلنج ہے۔ یہاں امن و امان کی بحالی، قبائلی تنازعات کا خاتمہ، تعلیم و صحت کی سہولتوں کی فراہمی، نوجوانوں کے لیے روزگار اور عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد بحال کرنا غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایسے حالات میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی حکومت کی کارکردگی کو صرف سیاسی بیانات کے بجائے عملی اقدامات، عوامی سہولتوں اور ترقیاتی ترجیحات کی بنیاد پر پرکھنا ضروری ہے۔
دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں اپنی جگہ، مگر پائیدار امن کے لیے مفاہمت بھی ناگزیر ہے۔ اسی تناظر میں مفرور کمانڈر نور خان بگٹی کی تقریباً دو دہائیوں بعد قومی دھارے میں واپسی اور اپنے 60 ساتھیوں اور اہلِ خانہ کے ہمراہ ہتھیار ڈالنے کے اقدام کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب سوئی میں شاہ علی کرچو اور جمعہ کرچو کے درمیان طویل اور خونریز قبائلی تنازعے کے خاتمے اور فریقین کے درمیان صلح کی کوششیں اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں کہ بلوچستان میں پائیدار امن کے لیے ریاستی رٹ کے ساتھ قبائلی مفاہمت، مذاکرات اور اعتماد سازی بھی ضروری ہیں۔ میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں ایسے اقدامات کی اہمیت اس لیے بڑھ جاتی ہے کہ صوبے کو تشدد کے دائرے سے نکال کر معمولاتِ زندگی، ترقی اور استحکام کی طرف لے جانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اس کے برعکس خیبر پختونخوا کی سیاست پر تنقید کرتے ہوئے یہ سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ صوبے کے عوام کو درپیش مسائل کے مقابلے میں سیاسی ترجیحات کو کس حد تک عوامی ضرورتوں کے مطابق رکھا جا رہا ہے؟ پاکستان تحریک انصاف کی سیاست میں عمران خان کی رہائی، لانگ مارچ، احتجاج اور وفاق کے ساتھ سیاسی کشمکش نمایاں موضوعات رہے ہیں۔ سیاسی احتجاج جمہوری حق ہے، لیکن کسی بھی صوبائی حکومت کی اصل کامیابی دہشت گردی پر قابو پانے، شہریوں کے تحفظ، تعلیم و صحت کی بہتری، روزگار کے مواقع اور انتظامی کارکردگی سے بھی جانچی جاتی ہے۔ خیبر پختونخوا کو درپیش سکیورٹی اور حکمرانی کے مسائل سنجیدہ توجہ چاہتے ہیں؛ اسی طرح بلوچستان کی حکومت کو بھی اپنے اقدامات کے نتائج مسلسل بہتر بنا کر دکھانا ہوں گے۔ اصل مقابلہ نعروں کا نہیں بلکہ عوام کو ریلیف دینے اور ریاستی ذمہ داریاں پوری کرنے کا ہے۔
کوئٹہ کے ایک سرکاری ہسپتال میں رکنِ صوبائی اسمبلی میر رحمت صالح بلوچ کی کامیاب انجیوپلاسٹی اور وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی عیادت نے سرکاری طبی اداروں میں جدید علاج کی صلاحیت اور اہمیت کو نمایاں کیا۔ کسی ایک کامیاب علاج کو پورے نظام کی مکمل کامیابی قرار نہیں دیا جا سکتا، تاہم یہ مثال اس ضرورت کو ضرور اجاگر کرتی ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں جدید طبی آلات، تربیت یافتہ عملہ، معیاری ادویات اور ہنگامی علاج کی سہولتیں عام شہریوں تک پہنچائی جائیں۔ بلوچستان میں بنیادی مراکزِ صحت کی فعالیت، طبی عملے کی دستیابی، ادویات کی فراہمی اور علاج کی سہولتوں کو بہتر بنانے کے اقدامات اسی وقت حقیقی کامیابی بنیں گے جب ان کے ثمرات دور دراز علاقوں کے عوام تک بھی پہنچیں گے۔
بلوچستان کے صحت کے شعبے میں ڈیجیٹل اصلاحات بھی توجہ حاصل کر رہی ہیں۔ صوبائی وزیرِ صحت بخت محمد کاکڑ کی سری لنکا میں متعلقہ حکام اور بین الاقوامی ماہرین کے ساتھ ملاقاتوں اور ڈیجیٹل ہیلتھ کے تجربات کی پیش کش نے صوبے کے طبی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوششوں کو اجاگر کیا۔ ڈیجیٹل نظام کے ذریعے مریضوں کے ریکارڈ، طبی سہولتوں کی نگرانی، ادویات کی دستیابی اور ہسپتالوں کی کارکردگی کو بہتر انداز میں جانچا جا سکتا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر تجربات کا تبادلہ اسی صورت زیادہ فائدہ مند ہوگا جب اسے بلوچستان کے مقامی حالات کے مطابق نافذ کرکے عام مریض کے لیے بہتر علاج، کم انتظار اور زیادہ شفافیت میں تبدیل کیا جائے۔
جدید دور میں حکومتی کارکردگی صرف فائلوں اور اجلاسوں سے نہیں بلکہ ڈیٹا، شفافیت اور بروقت فیصلوں سے بھی جانچی جاتی ہے۔ بلوچستان میں بھرتیوں، ترقیاتی منصوبہ بندی، نگرانی اور مالیاتی انتظام میں ڈیجیٹل ذرائع اور مصنوعی ذہانت سے مدد لینے کے اقدامات ایک جدید انتظامی سمت کی عکاسی کرتے ہیں۔ اگر AI پر مبنی نظام کو میرٹ پر بھرتیوں، درخواستوں کی جانچ، ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت، وسائل کی تقسیم اور عوامی شکایات کے ازالے کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کیا جائے تو بدانتظامی کم کرنے، فیصلوں کو تیز کرنے اور احتساب کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم اس ٹیکنالوجی کی اصل کامیابی شفاف طریقۂ کار، انسانی نگرانی، درست ڈیٹا اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ سے مشروط ہے۔ ٹیکنالوجی کا مقصد محض جدید ہونے کا تاثر دینا نہیں بلکہ عام آدمی کے لیے حکومتی خدمات کو آسان، منصفانہ اور قابلِ اعتماد بنانا ہونا چاہیے۔
تعلیم کے میدان میں اسکولوں کی فعالیت، اساتذہ کی دستیابی، تعلیمی اداروں کی بہتری اور طلبہ کے لیے وظائف جیسے اقدامات بلوچستان کے مستقبل سے براہِ راست تعلق رکھتے ہیں۔ شہید بینظیر بھٹو اسکالرشپ اور بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ جیسے پروگراموں کی افادیت اسی وقت مکمل طور پر سامنے آئے گی جب مستحق طلبہ کو میرٹ پر مواقع ملیں، مالی رکاوٹیں کم ہوں اور دور دراز علاقوں کے بچوں کو بھی معیاری تعلیم تک رسائی حاصل ہو۔ صوبے کے نوجوانوں کو تعلیم، ہنر اور روزگار کے مواقع فراہم کرنا صرف ترقیاتی منصوبہ نہیں بلکہ سماجی استحکام اور محفوظ مستقبل کی بنیاد ہے۔
کوئٹہ اور اس کے گردونواح میں سفری مسائل، ٹریفک کے دباؤ اور محفوظ پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی کے تناظر میں جناح پیپلز ٹرین کے ذریعے سریاب سے کچلاک تک رابطے کے تصور، گرین بس سروس اور خواتین کے لیے پنک بس جیسے اقدامات شہری سہولتوں کی بہتری کے حوالے سے اہمیت رکھتے ہیں۔ ان منصوبوں کا مقصد شہریوں کو نسبتاً محفوظ، منظم اور قابلِ برداشت سفری سہولتیں فراہم کرنا، خواتین کے لیے نقل و حرکت آسان بنانا اور روزانہ سفر کرنے والے افراد کی مشکلات کم کرنا ہونا چاہیے۔ تاہم منصوبوں کے اعلان سے زیادہ اہم ان کی بروقت تکمیل، باقاعدہ سروس، مناسب کرایوں، روٹس کی دستیابی اور مستقل نگرانی ہے۔ اگر یہ سہولتیں مؤثر انداز میں چلتی ہیں تو ان کے مثبت اثرات طلبہ، ملازمین، خواتین، کاروباری افراد اور عام مسافروں تک پہنچ سکتے ہیں۔
زراعت اور دیہی معیشت بلوچستان کی ترقی کے بنیادی ستون ہیں۔ زرعی ٹیوب ویلوں کی سولرائزیشن جیسے اقدامات کسانوں کے توانائی اخراجات کم کرنے اور زرعی سرگرمیوں کو سہارا دینے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ لیکن زیرِ زمین پانی کے محدود ذخائر کے باعث ان منصوبوں کے ساتھ پانی کے پائیدار استعمال، زیرِ زمین پانی کی سطح کی نگرانی اور مؤثر آبپاشی کے نظام کو بھی یقینی بنانا ضروری ہے۔ حقیقی زرعی ترقی وہی ہوگی جو کسان کی آمدن میں بہتری کے ساتھ قدرتی وسائل کے تحفظ کو بھی مقدم رکھے۔
کوئٹہ کے ایوب اسٹیڈیم میں وزیراعلیٰ گولڈ کپ فٹ بال کے فائنل کے موقع پر ہزاروں شائقین کی پُرجوش شرکت نے فٹ بال سے عوام کی محبت اور کھیلوں میں ان کی دلچسپی کو نمایاں کیا۔ کسی بڑے کھیلوں کے مقابلے میں عوام کی بھرپور شرکت کو بلوچستان میں امن کی مکمل ضمانت تو نہیں کہا جا سکتا، لیکن یہ ضرور ظاہر کرتی ہے کہ لوگ پُرامن سرگرمیوں، صحت مند تفریح اور اجتماعی میل جول کے مواقع چاہتے ہیں۔ کھیل نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرتے ہیں، علاقائی ہم آہنگی بڑھاتے ہیں اور معاشرے میں امید اور اعتماد پیدا کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ اس لیے کھیلوں کے میدان آباد رکھنا بھی ایک صحت مند اور پُرامن معاشرے کی تعمیر کا حصہ ہے۔
میر سرفراز بگٹی کی حکومت کے لیے اصل امتحان یہ ہے کہ امن و امان، قبائلی مفاہمت، صحت، تعلیم، ٹرانسپورٹ، زراعت اور ڈیجیٹل گورننس سے متعلق اقدامات کو مستقل اور قابلِ پیمائش نتائج میں تبدیل کیا جائے۔ عوام کو یہ محسوس ہونا چاہیے کہ سرکاری ہسپتال میں علاج ممکن ہے، بچے کو تعلیم مل سکتی ہے، نوجوان کو میرٹ پر آگے بڑھنے کا موقع حاصل ہے، خاتون محفوظ سفر کر سکتی ہے اور سرکاری ادارہ شہری کے مسائل سننے اور حل کرنے کا پابند ہے۔ یہی وہ معیار ہے جس پر کسی بھی حکومت کی سنجیدگی اور کامیابی کا فیصلہ ہونا چاہیے۔
بلوچستان کو اس وقت سیاسی نعروں سے بڑھ کر امن، استحکام، ادارہ جاتی اصلاحات اور عوامی خدمت کی ضرورت ہے۔ میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں قبائلی مفاہمت، جدید طبی سہولتوں، ڈیجیٹل اصلاحات، مصنوعی ذہانت کے ممکنہ استعمال، تعلیمی مواقع، پبلک ٹرانسپورٹ اور کھیلوں کے فروغ پر توجہ ایک ایسی سمت کی نمائندگی کرتی ہے جسے ٹھوس نتائج کے ذریعے مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ دوسری طرف کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے ضروری ہے کہ وہ احتجاج اور سیاسی مطالبات کے ساتھ ساتھ اپنے زیرِ انتظام صوبے کے عوامی مسائل کو بھی اولین ترجیح دے۔ آخرکار عوام کو لانگ مارچوں کی تعداد نہیں، بہتر زندگی چاہیے؛ سیاسی تقاریر نہیں، محفوظ مستقبل چاہیے؛ اور وعدوں کی فہرست نہیں، زمین پر نظر آنے والی تبدیلی درکار ہے۔ بلوچستان کی کامیابی کا راستہ امن، مفاہمت، شفاف حکمرانی اور عوامی خدمت سے ہو کر گزرتا ہے—اور میر سرفراز بگٹی کی حکومت اپنی ہر پالیسی کے ذریعے اسی راستے پر آگے بڑھنے کا عملی ثبوت دے رہی ہے۔

