اسلام آباد ( الفجرآن لائن) کلیکٹریٹ آف کسٹمز (انفورسمنٹ) حیدرآباد نے مالی سال 26-2025 کے دوران اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں، ریوینیو جمع کرنے اور انفراسٹرکچر کی ترقی میں تاریخی اور شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ کسٹمز حکام نے اسمگلروں کے نیٹ ورک کو توڑتے ہوئے مجموعی طور پر 914 کامیاب چھاپے مارے، جو گزشتہ سال کے 730 کیسز کے مقابلے میں 25 فیصد زیادہ ہیں۔ ان کارروائیوں میں ضبط کیے گئے سامان کی کل مالیت 4 ارب 55 کروڑ روپے سے زائد ریکارڈ کی گئی ہے، جس نے اسمگلنگ مافیا کی کمر توڑ دی ہے۔
محکمے کی رپورٹ کے مطابق اسمگلنگ کے رجحانات میں واضح تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ بغیر ڈیوٹی پیڈ گاڑیوں کی ضبطگی میں 60 فیصد اور چھالیہ کی ضبطگی میں 18 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ دوسری جانب، سخت ترین ناکہ بندی کی وجہ سے پٹرولیم مصنوعات کی اسمگلنگ میں 57 فیصد اور گٹکا کی اسمگلنگ میں 37 فیصد کی نمایاں کمی آئی ہے۔ اس کے علاوہ کسٹمز نے کامیاب نیلامیوں کے ذریعے ریوینیو میں 108 فیصد کا بڑا اضافہ حاصل کیا، جہاں 954 لاٹس کو اوپن مارکیٹ میں نیلام کر کے 1 ارب 32 کروڑ روپے سے زائد رقم سرکاری خزانے میں جمع کروائی گئی۔
صوبے میں اسمگلنگ کے سدباب کو مستقل بنیادوں پر مضبوط بنانے کے لیے کوٹری برج، سکھر بیراج، اور ایم-5 آرور سمیت 6 اہم ترین مقامات پر ڈیجیٹل اور موبائل انفورسمنٹ اسٹیشنز قائم کر دیے گئے ہیں۔ ان تمام اسٹیشنز کے لیے زمین باقاعدہ حاصل کر کے مستقل چوکیاں بنائی گئی ہیں۔ کسٹمز حیدرآباد نے کارروائیوں کے دوران پکڑی گئی 86 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی منشیات، شراب، جعلی سگریٹ اور ممنوعہ اشیاء کو سرعام نذرِ آتش بھی کیا، جو حکومتِ پاکستان کے قانون کی بالادستی اور معاشی تحفظ کے عزم کا منہ

