اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان اور ترکیہ نے اقتصادی روابط کو مضبوط بنانے، علاقائی انفراسٹرکچر کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور پائیدار تجارتی ترقی کے فروغ کے لیے بحری اور مواصلات کے شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید بڑھانے کا باضابطہ فیصلہ کیا ہے۔ یہ اہم پیش رفت استنبول میں منعقدہ پانچویں ترک میری ٹائم سمٹ کے موقع پر پاکستان کے وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری اور ترکیہ کے وزیر برائے ٹرانسپورٹ اینڈ انفراسٹرکچر عبدالقادر اورال اوغلو کے درمیان ہونے والی ایک اعلیٰ سطح کی ملاقات میں سامنے آئی۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ روایتی دوستانہ تعلقات کو اب منافع بخش اقتصادی اور تزویراتی شراکت داری میں تبدیل کیا جائے گا۔
اس سٹریٹجک معاہدے کے تحت دونوں ممالک بحری بندرگاہوں کی استعداد کار بڑھانے، کارگو ہینڈلنگ کو جدید بنانے اور لاجسٹکس کے شعبے میں تکنیکی مہارت کا تبادلہ کریں گے۔ پاکستانی وفد نے ترکیہ کی قیادت کو کراچی پورٹ، پورٹ قاسم اور گوادر پورٹ پر جاری اصلاحات اور سرمایہ کاری کے مواقعوں سے آگاہ کیا اور ترک کمپنیوں کو پاکستان کے بحری انفراسٹرکچر، جہاز سازی (شپ بلڈنگ) اور ساحلی مانیٹرنگ کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔ اس کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان مسافر اور تجارتی فیری سروس شروع کرنے کے امکانات پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔
یہ معاہدہ نہ صرف دونوں برادر ممالک کے مابین تجارتی حجم کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ یہ علاقائی مواصلاتی رابطوں (ریجنل کنیکٹیویٹی) کے لیے بھی ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔ دونوں وزراء نے گرین شپنگ، کاربن کے اخراج میں کمی اور بحری نظم و نسق میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال جیسے پائیدار اہداف پر مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس شراکت داری سے پاکستان اور ترکیہ بین الاقوامی تجارتی گزرگاہوں پر اہم اقتصادی مراکز کے طور پر ابھریں گے

