حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات شدت اختیار کرگئے،اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی کا اعتماد میں نہ لینے پر اعتراض اس ملک کو سیاستدانوں نے ٹھیک کرنا ہے، کیا ہوگا کہ ساری پالیسیاں یہاں بنیں، اس ملک پر رحم کریں،اپوزیشن لیڈرو
زیراعظم کے ساتھ جو ہورہا ہے یہ ان فیئر ہے،وزیراعظم کو ان کی ٹیم کی جانب سے بہتر گائیڈ کیا جاسکتا تھا،بلاول بل کی منظوری کے بعد اپوزیشن نے ایوان سے واک آؤٹ کردیا
اسلام آباد(الفجرآن لائن)قومی اسمبلی نے نیشنل کمانڈاتھارٹی ترمیم بل اور ڈیفنس فورسز آف پاکستان بل منظور کرلیا۔قومی اسمبلی میں نیشنل کمانڈ اتھارٹی ترمیمی بل کی منظوری کے موقع پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات شدت اختیار کرگئے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کی جانب سے بل پیش کیے جانے پر اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہ لینے پر اعتراض اٹھایا، جبکہ بل کی منظوری کے بعد اپوزیشن نے ایوان سے واک آؤٹ کردیا۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے نیشنل کمانڈ اتھارٹی ترمیمی بل پیش کیا، جس کے بعد انہوں نے ڈیفنس فورسز آف پاکستان بل بھی ایوان میں پیش کردیا
اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے بل پیش کیے جانے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس پارلیمنٹ کے ممبر ہیں، ہم نے دیکھا ہی نہیں کہ کیا ہے۔ بل پیش کردیں، ساتھی پڑھ لیں گے۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ تین دن سے درخواست کررہے ہیں کہ پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے۔ پرسوں ہم افغانستان کے سفارتخانے گئے تھے، افغانستان اور ایران سے متعلق ہمیں کنوینس کریں۔ آئین اپنے ملک کو بچائیں، ملک بحران میں ہے۔انہوں نے کہا کہ اس ملک کو سیاستدانوں نے ٹھیک کرنا ہے، کیا ہوگا کہ ساری پالیسیاں یہاں بنیں، اس ملک پر رحم کریں۔اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ اگر آپ لوگ ٹیبلٹس استعمال نہ کریں تو میرا تو قصور نہیں ہے۔وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل کمانڈ اتھارٹی میں دو ترامیم ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات پر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ بلاول بھٹو نے جو کہا سر آنکھوں پر، یہ ٹیکنیکل قانون ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک جگہ کمانڈ اتھارٹی کے قانون میں چیئرمین کا ذکر تھا، وہ اب ختم ہوگیا ہے اور اس کی جگہ چیف ڈیفنس فورسز کا ذکر آگیا ہے۔ اس میں کوئی ابہام والی بات نہیں ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ جو آپ کے ساتھ ہورہا ہے یہ ان فیئر ہے۔ میری پارٹی کو اٹارنی جنرل اور وزیر داخلہ کی جانب سے انگیج کیا گیا۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وزیراعظم کو ان کی ٹیم کی جانب سے بہتر گائیڈ کیا جاسکتا تھا

