اسلام آباد (الفجر آن لائن) وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے خیبرپختونخوا میں دہشتگردی اور امن و امان کی صورتحال پر صوبائی حکومت اور تحریک انصاف کی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ فوجی شہداء کا ذکر کرنے والوں کو شہری شہداء کی ذمہ داری بھی قبول کرنی چاہیے۔
خواجہ آصف نے اپنے بیان میں سوال اٹھایا کہ خیبرپختونخوا کی قیادت نے دہشتگردی میں جاں بحق ہونے والے کسی ایک شہری شہید کے گھر جا کر فاتحہ خوانی کی ہے یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں دہشتگردی کے باعث شہریوں کی قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں، تاہم ان کے بقول صوبائی قیادت شہری شہداء کی ذمہ داری قبول کرنے سے گریزاں ہے۔
وفاقی وزیر دفاع نے سابق وزیراعظم عمران خان پر الزام عائد کیا کہ وہ خیبرپختونخوا میں دہشتگرد عناصر کو لانے اور انہیں صوبے میں آباد کرنے کے حامی رہے ہیں۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ عمران خان کی اسمبلی تقاریر اور ذرائع ابلاغ میں دیے گئے بیانات اس حوالے سے ریکارڈ کا حصہ ہیں۔
انہوں نے اس معاملے پر ٹیلی وڑن پر براہ راست مناظرے کا چیلنج بھی دیا۔
خواجہ آصف نے مزید الزام عائد کیا کہ مرکز میں اقتدار سے محرومی کے بعد خیبرپختونخوا کے مختلف وزرائے اعلیٰ نے وفاق کے خلاف محاذ آرائی کی،
جبکہ 9 مئی کے واقعات بھی اسی سیاسی کشیدگی کا حصہ تھے۔
انہوں نے خیبرپختونخوا کی پوری سیاسی قیادت پر سرکاری وسائل کے مبینہ غلط استعمال اور دہشتگرد عناصر کو بھتے کی صورت میں حصہ دینے جیسے سنگین الزامات بھی عائد کیے۔
خواجہ آصف نے صوبائی قیادت کو دہشتگردوں کا مبینہ شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں بہنے والے خون کی ذمہ داری ان کے ہاتھوں پر بھی عائد ہوتی ہے۔
وفاقی وزیر دفاع نے کہا کہ قوم ایسے معاملات کا حساب لے گی اور اللہ کے سامنے بھی جواب دینا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کی قربانیوں کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
خواجہ آصف نے اپنے بیان میں اسلام آباد کو پاکستان کی وحدت اور وفاق کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی دارالحکومت 25 کروڑ پاکستانیوں کی مشترکہ شناخت کی نمائندگی کرتا ہے۔
انہوں نے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مقدس خون سے وطن کی حفاظت اور آبیاری کی جا رہی ہے

