کوئٹہ(الفجرآن لائن) چیف سیکرٹری بلوچستان کی زیرِ صدارت صوبائی انتظامی سیکرٹریز کا ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبائی حکومت کے انتظامی، مالی، ترقیاتی اور عوامی خدمت سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سنیئر ممبر بورڈ آف ریونیو، چیئرمین سی ایم آئی ٹی، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ترقیات و منصوبہ بندی، اور سیکرٹری خزانہ سمیت تمام محکموں کے انتظامی سیکرٹریز نے شرکت کی۔ اجلاس کے آغاز میں سابقہ حکومتی فیصلوں اور ہدایات پر عملدرآمد کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
چیف سیکرٹری بلوچستان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ سرکاری احکامات پر بروقت اور مؤثر عملدرآمد ہی بہتر حکمرانی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے تمام محکموں کو ہدایت کی کہ وہ اپنی کارکردگی، اہداف اور نتائج سے متعلق قابلِ تصدیق پیش رفت کو یقینی بنائیں۔ اس موقع پر انہوں نے سرکاری گاڑیوں اور دیگر قیمتی سرکاری اثاثہ جات کا مکمل ریکارڈ مرتب کرنے کا بھی حکم دیا۔
اجلاس کا سب سے اہم فیصلہ صوبے میں تعیناتیوں کے عمل کو جدید بنانا تھا۔ چیف سیکرٹری نے اعلان کیا کہ اب صوبائی حکومت میں تعیناتی کا عمل مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) پر مبنی جدید اور شفاف نظام کے تحت مکمل کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد میرٹ، مساوی مواقع اور شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔ جدید نظام کے ذریعے امیدواروں کی اہلیت، تعلیمی قابلیت اور تجربے کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے گا، جبکہ انسانی مداخلت کو کم سے کم رکھا جائے گا تاکہ کسی بھی امیدوار کے ساتھ ناانصافی نہ ہو اور حقدار کو اس کا جائز حق مل سکے۔
عوامی سروسز کو بہتر بنانے کے لیے چیف سیکرٹری نے ہدایت کی کہ شہریوں کی شکایات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے اور ان کی کارروائی کا مؤثر ریکارڈ برقرار رکھا جائے تاکہ عوام کو فوری ریلیف مل سکے۔ اس کے ساتھ ہی جدید طرزِ حکمرانی کے لیے تمام صوبائی محکموں کو اپنے ڈیٹا بیسز کو اپ ڈیٹ رکھنے اور انہیں باہم مربوط (Integrate) کرنے کا حکم دیا گیا تاکہ ڈیٹا کے مؤثر استعمال سے تیز رفتار اور شفاف فیصلے کیے جا سکیں۔
اجلاس کے آخر میں مختلف محکموں کے زیرِ التوا عدالتی مقدمات اور مالیاتی نظم و ضبط پر بھی غور کیا گیا۔ متعلقہ سیکرٹریز کو سخت ہدایت کی گئی کہ قانونی معاملات میں مؤثر پیروی کر کے سرکاری مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور فیلڈ مانیٹرنگ کے نظام کو مزید مضبوط کیا جائے

