اسلام آباد (الفجرآن لائن) پاکستان میں اسکول سے باہر بچوں کی بڑی تعداد تعلیمی نظام کے لیے ایک اہم چیلنج بنی ہوئی ہے، جہاں تقریباً 2 کروڑ 60 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔
اس صورتحال سے نمٹنے اور غیر رسمی تعلیم کا معیار بہتر بنانے کے لیے حکومت نے اساتذہ کی مسلسل پیشہ ورانہ تربیت کا نظام متعارف کراتے ہوئے تربیتی اقدامات تیز کر دیے ہیں۔
سیکریٹری وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ندیم محبوب نے تین روزہ ماسٹر ٹرینرز تربیتی پروگرام کے دوسرے گروپ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا
کہ حکومت کی ذمہ داری صرف بچوں کو تعلیم تک رسائی فراہم کرنا نہیں بلکہ معیاری تعلیم اور بہتر تعلیمی نتائج کو یقینی بنانا بھی ہے۔
اسی مقصد کے تحت غیر رسمی تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے اور اساتذہ کو مؤثر معاونت فراہم کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
انہوں نے ماسٹر ٹرینرز پر زور دیا کہ وہ تربیت کے دوران حاصل ہونے والی معلومات اور جدید تدریسی طریقے اپنے ساتھی اساتذہ تک پہنچائیں اور کلاس رومز میں ان کے عملی نفاذ میں رہنمائی فراہم کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ ماسٹر ٹرینرز کا کردار محض تربیت دینے تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ انہیں اساتذہ کی رہنمائی، عملی مظاہرے، سہولت کاری اور حوصلہ افزائی بھی کرنی چاہیے۔
ندیم محبوب نے کہا کہ تربیتی پروگرام کی کامیابی کا اصل انحصار نچلی سطح پر مؤثر عملدرآمد پر ہوگا۔
ماسٹر ٹرینرز کو چاہیے کہ وہ تدریس کے دوران پیش آنے والے مسائل کی نشاندہی کریں، بہتر طریقہ ہائے تدریس کا تبادلہ کریں اور فراہم کردہ تربیتی وسائل و ڈیجیٹل سہولیات سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس پروگرام کی کامیابی کا پیمانہ صرف تربیت مکمل کرنا نہیں بلکہ تدریسی معیار میں بہتری، بچوں کے تعلیمی نتائج میں اضافہ اور انہیں آگے بڑھنے کے بہتر مواقع فراہم کرنا ہے۔
وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے مطابق غیر رسمی تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ایک خصوصی یونٹ قائم کیا گیا ہے، جبکہ اساتذہ کی مسلسل پیشہ ورانہ ترقی کا باقاعدہ نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے۔
اس نظام کے تحت منتخب ماسٹر ٹرینرز اپنے ساتھی اساتذہ کو عملی رہنمائی اور مسلسل معاونت فراہم کریں گے۔اساتذہ کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے باقاعدہ اور ضرورت پر مبنی تازہ تربیتی پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔
اس کے علاوہ ماہانہ پیشہ ورانہ ترقی کے دن اور کلسٹر کی سطح پر واٹس ایپ گروپس قائم کیے جائیں گے، جن کے ذریعے اساتذہ ایک دوسرے سے رابطہ، تدریسی تجربات کا تبادلہ اور تعلیمی مواد حاصل کرسکیں گے۔
اساتذہ کی تربیت کے لیے ڈیجیٹل نظام کا آزمائشی پروگرام بھی شروع کیا جا رہا ہے تاکہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع کو وسعت دی جاسکے۔
تربیتی پروگرام یونیسکو کے ایک مشیر کی معاونت سے تیار کیا گیا۔ اس مقصد کے لیے اپریل 2026 میں اساتذہ کی تربیتی ضروریات کا جائزہ لیا گیا،
تربیتی مواد کا تجزیہ کیا گیا اور تربیت دینے والے اساتذہ کی تیاری سمیت مرحلہ وار تربیتی نظام کا جائزہ لیا گیا۔
پروگرام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ماسٹر ٹرینرز کے ساتھ گروپ مباحثے کیے گئے اور غیر رسمی تعلیم سے متعلق محکموں سے مشاورت بھی کی گئی۔
وزارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت نے نیشنل کمیشن فار ہیومن ڈویلپمنٹ، نیشنل ایجوکیشن فاؤنڈیشن اور بنیادی تعلیم کمیونٹی اسکولز کے ذریعے اساتذہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور تدریسی معیار میں بہتری کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔
کلاس رومز میں عملی اور سرگرمیوں پر مبنی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے اساتذہ کو تدریسی کٹس فراہم کی گئی ہیں۔
تربیتی پروگرام کی اختتامی تقریب کے دوران ماسٹر ٹرینرز میں ڈیجیٹل تعلیمی مواد سے لیس ٹیبلٹس بھی تقسیم کیے گئے تاکہ وہ جدید وسائل کو تدریسی عمل میں مؤثر انداز میں استعمال کرسکیں۔
ڈائریکٹر جنرل بنیادی تعلیم کمیونٹی اسکولز حامد خان نیازی نے اساتذہ کی استعداد کار بڑھانے کے لیے سرمایہ کاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جدید تدریسی حکمت عملیوں سے ہم آہنگی اور بچوں کے تعلیمی نتائج بہتر بنانے کے لیے مسلسل تربیت ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ بنیادی تعلیم کمیونٹی اسکولز ان علاقوں میں بچوں تک تعلیم پہنچانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں جہاں رسمی تعلیمی سہولیات محدود ہیں۔ ی
ہ اسکول پسماندہ اور کم سہولیات رکھنے والے بچوں کو تعلیمی نظام سے منسلک کرنے کا مؤثر ذریعہ ہیں۔حامد خان نیازی کے مطابق اساتذہ کی مسلسل پیشہ ورانہ ترقی سے انہیں جدید تدریسی طریقے اپنانے،
کلاس روم کی کارکردگی بہتر بنانے اور بچوں کی ضروریات کے مطابق تعلیم دینے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ بنیادی تعلیم کمیونٹی اسکولز کی کامیابی صرف ان کے دائرہ کار کو وسعت دینے میں نہیں بلکہ معیاری تعلیم، تربیت یافتہ اساتذہ اور زمینی سطح پر مؤثر معاونت کی فراہمی میں بھی مضمر ہے۔

