*وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس، معدنی فنڈ کے استعمال کی پالیسی، لاکھوں بچوں کو تعلیمی دھارے میں لانے اور سرکاری خریداری کا نظام شفاف بنانے کے لیے اصلاحات کی منظوری*
کوئٹہ(الفجرآن لائن)، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے اہم اجلاس میں صوبے کے عوامی مفاد، معاشی ترقی، تعلیم، صحت، صنعت، سیاحت، خواتین کے تحفظ، انتظامی اصلاحات اور شہری سہولیات سے متعلق متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دے دی گئی۔ کابینہ نے معدنی وسائل سے حاصل ہونے والے مالی فوائد کے مؤثر استعمال، غیر رسمی تعلیم کے فروغ، سرکاری اسکولوں میں دوہری تدریسی شفٹ، بند صنعتوں کی بحالی، سرکاری خریداری کے نظام میں شفافیت، کاروبار میں آسانی، ٹیلی میڈیسن، خواتین کے تحفظ اور عوام کو سرکاری خدمات کی فراہمی آسان بنانے سمیت مختلف شعبوں میں اصلاحات کی منظوری دی۔وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے اطلاعات و سیاسی امور شاہد رند نے کابینہ اجلاس کے فیصلوں سے متعلق میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں منظور کیے گئے اقدامات صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ، انتظامی نظام کی بہتری اور عوامی ضروریات کے مطابق پالیسی سازی کی جانب اہم پیش رفت ہیں۔انہوں نے بتایا کہ صوبائی کابینہ نے بلوچستان معدنی ترقیاتی فنڈ کے استعمال کی پالیسی کی منظوری دی ہے۔ بلوچستان قدرتی معدنی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے اور ان وسائل سے حاصل ہونے والے مالی فوائد کو محض آمدن تک محدود رکھنے کے بجائے صوبے کی ترقی اور عوامی فلاح کے لیے مؤثر انداز میں بروئے کار لانا ضروری ہے۔ اس پالیسی کا مقصد معدنی وسائل سے حاصل ہونے والے فنڈز کے استعمال کے لیے واضح سمت اور مؤثر طریقۂ کار وضع کرنا ہے تاکہ ان وسائل کے ثمرات صوبے کے عوام تک پہنچ سکیں۔ کابینہ نے بلوچستان سیاحتی پالیسی اور بلوچستان ثقافتی پالیسی کے مسودوں کی بھی منظوری دی۔ بلوچستان قدرتی حسن، تاریخی مقامات، قدیم تہذیب، روایتی ثقافت اور منفرد جغرافیائی خصوصیات کا حامل صوبہ ہے۔ ان پالیسیوں کے ذریعے سیاحتی مقامات کی ترقی، سیاحت سے وابستہ معاشی سرگرمیوں کے فروغ، مقامی آبادی کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور تاریخی و ثقافتی ورثے کے تحفظ پر توجہ دی جائے گی۔تعلیم کے شعبے میں کابینہ نے بلوچستان غیر رسمی تعلیم ایکٹ 2025 کی منظوری دی۔ حکومت بلوچستان رواں سال شرح خواندگی میں اضافے کے لیے ایک نیا پروگرام شروع کر رہی ہے، جس کے تحت 10 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 16 لاکھ بچوں کو تعلیمی دھارے میں لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ شاہد رند نے کہا کہ مختلف وجوہات کی بنا پر رسمی اسکولوں میں داخل نہ ہونے والے بچوں کو غیر رسمی تعلیم کے ذریعے تعلیمی مواقع فراہم کیے جائیں گے تاکہ انہیں دوبارہ تعلیم کے دھارے میں شامل کیا جا سکے اور کوئی بچہ تعلیم کے حق سے محروم نہ رہے۔اسی سلسلے میں صوبائی کابینہ نے سرکاری اسکولوں میں دوہری تدریسی شفٹ شروع کرنے کی پالیسی کی بھی منظوری دی۔ اس اقدام کے تحت موجودہ تعلیمی عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کو بہتر انداز میں استعمال کرتے ہوئے شام کے اوقات میں تدریسی سرگرمیاں شروع کی جائیں گی۔ اس پالیسی کا مقصد موجودہ اسکولوں میں اضافی طلبہ کے لیے گنجائش پیدا کرنا اور جہاں ممکن ہو، نئے اسکولوں کی فوری تعمیر کے بجائے موجودہ وسائل کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرنا ہے۔ کابینہ نے بلوچستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے انتظامی بورڈ کی تشکیل کی بھی منظوری دی تاکہ فاؤنڈیشن کے انتظامی اور تعلیمی امور کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔صنعتی شعبے میں کابینہ نے بلوچستان میں غیر فعال اور بند صنعتی یونٹس کو دوبارہ فعال بنانے کی پالیسی منظور کی۔ اس پالیسی کے تحت ایسے صنعتی یونٹس کی بحالی کے لیے مالی معاونت اور رعایتیں فراہم کی جائیں گی۔ حکومت کا مقصد پہلے سے قائم مگر مختلف وجوہات کی بنا پر بند صنعتوں کو دوبارہ چلانا ہے تاکہ موجودہ صنعتی ڈھانچے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔کابینہ نے سابق ضلع کوئٹہ کی ریونیو حدود میں ضروری ردوبدل اور شمالی کوئٹہ اور جنوبی کوئٹہ کی حدود کے ازسرنو تعین کی منظوری بھی دی۔ آبادی میں اضافے اور شہری پھیلاؤ کے پیش نظر اس اقدام کا مقصد انتظامی امور کو بہتر بنانا اور شہریوں کو ان کی ضروریات کے مطابق سرکاری سہولیات کی فراہمی آسان بنانا ہے۔ صحت کے شعبے میں کابینہ نے بلوچستان ادارہ برائے امراضِ گردہ کوئٹہ کے چیف ایگزیکٹو افسر کے طور پر پروفیسر عبدالرازق کی عبوری تعیناتی کی منظوری دی۔ یہ مستقل تعیناتی نہیں ہوگی بلکہ اس آسامی کو باقاعدہ مشتہر کرکے نجی شعبے سے ایک ماہر پیشہ ور کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ اس فیصلے کا مقصد ادارے کو جدید طبی اور انتظامی مہارت رکھنے والے ماہر کی سربراہی میں مؤثر طور پر فعال بنانا اور مریضوں کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنا ہے۔کابینہ نے بلوچستان ٹیلی میڈیسن اور دور دراز طبی خدمات ایکٹ 2026 کی منظوری بھی دی۔ بلوچستان کے وسیع رقبے اور دور دراز علاقوں میں آباد آبادی کو ماہر ڈاکٹروں تک بروقت رسائی میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ اس قانون سازی کا مقصد جدید مواصلاتی ٹیکنالوجی کے ذریعے طبی ماہرین کی خدمات دور دراز علاقوں تک پہنچانے کے لیے قانونی بنیاد فراہم کرنا ہے۔ اسی طرح بلوچستان صحتِ عامہ ایکٹ 2026 کی منظوری بھی دی گئی تاکہ صوبے میں صحتِ عامہ کے نظام کو واضح قانونی اور انتظامی بنیاد فراہم کی جا سکے۔ کابینہ کے فیصلوں میں امراضِ قلب کے ادارے میں ہاسٹل کی تعمیر کا معاملہ بھی شامل تھا۔ صوبائی کابینہ نے وفاقی منصوبے لولانگ ڈیم کو صوبائی ٹیکسوں سے مستثنیٰ قرار دینے کی منظوری دی۔ اس فیصلے کا مقصد بڑے ترقیاتی منصوبے پر مالی بوجھ کم کرنا اور اس کی تکمیل میں سہولت پیدا کرنا ہے تاکہ منصوبے کی رفتار اور معاشی افادیت بہتر بنانے میں مدد مل سکے۔ کابینہ نے بلوچستان میں نئے اعلان شدہ تمام اضلاع میں نئی ضلع کونسلوں کے قیام کی منظوری بھی دی۔ نئے اضلاع کے قیام کے بعد مقامی سطح پر انتظامی اور ترقیاتی ضروریات میں اضافے کے پیش نظر اس فیصلے سے مقامی ترقیاتی منصوبہ بندی اور عوامی نمائندگی کے نظام کو منظم کرنے میں مدد ملے گی۔خواتین کے حقوق اور تحفظ کے حوالے سے کابینہ نے بلوچستان کمیشن آن اسٹیٹس آف ویمن ترمیمی ایکٹ 2026 اور بلوچستان پناہ گاہوں اور دارالامان انتظامی کنٹرول ایکٹ 2026 کی منظوری دی۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں خواتین کے لیے محفوظ دارالامان تعمیر کرنے سے متعلق جامع منصوبہ پیش کرنے کی ہدایت بھی کی۔ اس اقدام کا مقصد مشکل حالات سے دوچار خواتین کو محفوظ ماحول، قانونی معاونت اور بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے۔شہری ماحول کی بہتری کے لیے کابینہ نے ریڈیو پاکستان سریاب روڈ کی اراضی پر عوامی پارک اور شہری جنگلات قائم کرنے کا فیصلہ کیا، جس پر سرکاری و نجی شراکت داری کے تحت کام کیا جائے گا۔ کوئٹہ میں آبادی اور تعمیرات میں اضافے کے باعث کھلی جگہوں، سبز مقامات اور تفریحی سہولیات کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔ شہری جنگلات اور عوامی پارک کے قیام سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی، ماحول کی بہتری اور شہر کی خوبصورتی میں اضافے میں مدد ملے گی۔ کابینہ نے ڈیری فارمز کو کوئٹہ شہر سے باہر اغبرگ، سجدی روڈ منتقل کرنے کی تجویز سے بھی اتفاق کیا۔ شہر کے اندر ڈیری فارمز کی موجودگی سے صفائی، ٹریفک، ماحول اور شہری صحت سے متعلق مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ مجوزہ منتقلی سے شہری ماحول بہتر بنانے اور ڈیری کے شعبے کو منظم کرنے میں مدد ملے گی۔صوبائی کابینہ نے آسان کاروبار ایکٹ 2026 کی منظوری بھی دی۔ اس قانون سازی کا مقصد صوبے میں کاروبار شروع کرنے اور چلانے کے عمل کو آسان بنانا، غیر ضروری انتظامی پیچیدگیوں میں کمی لانا اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔ کاروباری سرگرمیوں میں آسانی سے روزگار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ کابینہ نے موٹر وہیکل آرڈیننس 1965 کے شیڈول سولہ میں ترمیم کی منظوری دی، جس میں تیسرے فریق کے بیمے سے متعلق ضروری تبدیلی شامل ہے۔ اس کا مقصد موٹر گاڑیوں کے استعمال سے متعلق قانونی اور مالی ذمہ داریوں کو واضح کرنا اور متاثرہ افراد کے حقوق کے تحفظ کے نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے۔ زرعی شعبے میں کابینہ نے کپاس کی مشینی کاشت کے پروگرام کے اہم منصوبے کی تخمینہ لاگت میں ضروری اضافے کی منظوری دی۔ اس اقدام کا مقصد جدید زرعی مشینری کے استعمال کو فروغ دینا، پیداوار میں اضافے کے امکانات پیدا کرنا، کاشتکاروں کی مشکلات کم کرنا اور زرعی معیشت کو مضبوط بنانا ہے۔سرکاری خریداری کے نظام میں اصلاحات کے حوالے سے صوبائی کابینہ نے بلوچستان سرکاری خریداری قواعد 2014 میں مجوزہ ترامیم کی منظوری دی۔ منیجنگ ڈائریکٹر بلوچستان پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (بی پی پی آر اے) حبیب الرحمن جاموٹ نے کابینہ کو قواعد میں مجوزہ ترامیم، الیکٹرانک خریداری کے فروغ اور سرکاری خریداری کے عمل کو مزید شفاف، مؤثر اور مسابقتی بنانے کے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ صوبے میں سرکاری خریداری کے عمل کو مزید شفاف بنانے کے لیے الیکٹرانک بڈنگ کا دائرہ وسیع کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس کے تحت ورکس، اشیاء، خدمات اور کنسلٹنسی کے پانچ لاکھ روپے سے زائد مالیت کے تمام ٹینڈرز میں بولیاں الیکٹرانک طریقے سے وصول کرنا لازمی ہوگا۔ موجودہ نظام میں مختلف شعبوں کے لیے الیکٹرانک بڈنگ کی مالی حدود الگ الگ ہیں، جنہیں ختم کرکے تمام شعبوں کے لیے یکساں پانچ لاکھ روپے کی حد مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس اقدام سے الیکٹرانک خریداری کا دائرہ وسیع ہونے کے ساتھ شفافیت، مسابقت اور مؤثریت میں اضافہ ہوگا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ موجودہ معاشی حالات، افراطِ زر اور قیمتوں میں اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے متبادل خریداری کے طریقوں، بشمول کوٹیشن اور چھوٹی نوعیت کی خریداری، کی مالی حدود پر نظرثانی کی تجویز پیش کی گئی ہے تاکہ غیر ضروری انتظامی مراحل اور بوجھ کم کیا جا سکے۔ چھوٹی نوعیت کی خریداری، جسے پیٹی پرچیز کہا جاتا ہے، کی حد ایک لاکھ روپے سے بڑھا کر دو لاکھ روپے جبکہ کوٹیشن کے ذریعے خریداری کی حد دو لاکھ روپے سے بڑھا کر پانچ لاکھ روپے کرنے کی تجویز دی گئی الیکٹرانک خریداری کے فروغ اور بولی کے دستاویزات کی طباعت کی ضرورت کم ہونے کے پیش نظر بولی کے دستاویزات کی فیس ختم کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی تاکہ بولی دہندگان پر غیر ضروری مالی بوجھ کم کیا جا سکے۔ بولیوں کی توثیقی مدت سے متعلق مجوزہ ترامیم کے تحت یہ مدت مالی تجاویز کھولنے کے بجائے تکنیکی تجاویز کھولنے کی تاریخ سے شمار ہوگی۔ ورکس، کنسلٹنسی اور خدمات کے لیے قومی مسابقتی بولی میں توثیقی مدت 90 دن جبکہ بین الاقوامی مسابقتی بولی میں 120 دن مقرر کرنے کی تجویز ہے۔ اسی طرح اشیاء کی قومی خریداری کے لیے 45 دن اور بین الاقوامی خریداری کے لیے 60 دن کی مدت تجویز کی گئی ہے۔ اس تبدیلی کا مقصد تکنیکی جائزے میں تاخیر کی صورت میں بولی کی توثیقی مدت غیر ضروری طور پر طویل ہونے سے بچانا ہے۔کابینہ کو خریداری کا عمل منسوخ کرنے کے لیے واضح شرائط سے بھی آگاہ کیا گیا۔ مجوزہ قواعد کے مطابق معاہدہ تفویض کیے جانے سے قبل خریداری کا عمل صرف اس صورت میں منسوخ کیا جا سکے گا جب خریداری کی مزید ضرورت باقی نہ رہے، فنڈز دستیاب نہ ہوں، بولیوں کی قیمتیں غیر معمولی طور پر زیادہ ہوں یا کوئی اہم بے قاعدگی سامنے آئے۔ خریداری منسوخ ہونے کی صورت میں بی پی پی آر اے کی ویب سائٹ پر عوامی سطح پر اس کی تشہیر بھی لازم ہوگی۔بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ متعلقہ تجربے کو صرف ضرورت کی صورت میں اہلیت کی شرط بنانے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں سمیت نئی فرموں کو سرکاری خریداری کے عمل میں شرکت کے زیادہ مواقع میسر آ سکیں۔ بی پی پی آر اے کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے بنیادی نظام کو اپ گریڈ کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی تاکہ ٹینڈرنگ کے عمل کو مزید شفاف، تیز اور قابل نگرانی بنایا جا سکے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ مجوزہ ترامیم بی پی پی آر اے کے بورڈ سے منظور ہو چکی ہیں، محکمہ قانون ان کا جائزہ لے چکا ہے جبکہ وزیر اعلیٰ بلوچستان بھی سمری کی توثیق کر چکے ہیں۔ کابینہ نے ان ترامیم کی منظوری دے دی۔ ان کا مقصد محکموں کی معمول کی اور ہنگامی خریداریوں میں غیر ضروری تاخیر کم کرنا اور تمام سرکاری خریداریوں میں شفافیت، مالی نظم و ضبط اور قواعد کی پابندی برقرار رکھنا ہے۔عوامی سہولت کے حوالے سے کابینہ نے نادرا کے ذریعے ای ڈومیسائل اور لوکل سرٹیفکیٹس کے اجرا کی منظوری دی۔ اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے تجویز کردہ 200 روپے فیس ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ شہریوں کو یہ سرکاری فیس ادا نہیں کرنا ہوگی، تاہم نادرا کی مقررہ فیس لاگو ہوگی۔ اس اقدام سے طویل کاغذی کارروائی، مختلف دفاتر کے چکر اور غیر ضروری انتظار میں کمی آئے گی اور شہری نادرا مراکز کے ذریعے ڈومیسائل اور لوکل سرٹیفکیٹس حاصل کر سکیں گے۔ یہ فیصلہ سرکاری خدمات کو آسان، شفاف اور جدید بنانے کی جانب اہم قدم ہے۔کابینہ نے بلوچستان لیویز کے انضمام کے بعد پولیس تھانوں کے دائرۂ اختیار کے تعین کے لیے محکمہ داخلہ بلوچستان کی سفارشات کی بھی منظوری دی۔ اس اقدام کا مقصد تھانوں کی حدود واضح کرنا ہے تاکہ شہریوں کو اپنی شکایات اور قانونی معاملات کے سلسلے میں متعلقہ تھانے سے رجوع کرنے میں دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔صوبائی کابینہ نے اوتھل میں نئے عدالتی حوالات کے قیام کی منظوری بھی دی تاکہ عدالتی کارروائی کے دوران زیر حراست افراد کے لیے مناسب سہولیات فراہم کی جا سکیں اور متعلقہ عدالتی نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔ کابینہ نے بلوچستان جیل خانہ جات پالیسی بورڈ کی تشکیل کی بھی منظوری دی۔ اس بورڈ کے ذریعے جیلوں کے انتظام، اصلاحات، قیدیوں کی فلاح اور جیلوں کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے پالیسی سطح پر رہنمائی حاصل کی جا سکے گی۔ ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے کابینہ نے مختلف محکموں کے پروجیکٹ ڈائریکٹرز کی تعیناتی سے متعلق پالیسی اور نظرثانی شدہ مشاہروں کی منظوری دی۔ اس کا مقصد بڑے اور پیچیدہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے مارکیٹ سے اہل اور تجربہ کار پیشہ ور ماہرین کی خدمات حاصل کرنے کا طریقۂ کار وضع کرنا ہے۔ منصوبوں کی کامیابی کے لیے مناسب بجٹ کے ساتھ مؤثر نگرانی، پیشہ ورانہ انتظام اور بروقت عمل درآمد ضروری ہے، اس لیے اس پالیسی کے ذریعے منصوبوں کی نگرانی اور تکمیل کے عمل کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔کابینہ نے بلوچستان سروس ٹریبونل ایکٹ 1974 میں ضروری ترامیم کے مسودے کی بھی منظوری دی۔ ان ترامیم کا مقصد سروس ٹریبونل کے قانونی اور انتظامی نظام کو موجودہ ضروریات سے ہم آہنگ کرنا اور سرکاری ملازمین سے متعلق مقدمات کے نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے۔ شاہد رند نے کہا کہ صوبائی کابینہ کے اجلاس میں کیے گئے فیصلے محض معمول کے انتظامی اقدامات نہیں بلکہ حکومت بلوچستان کی مجموعی پالیسی سمت کی عکاسی کرتے ہیں۔ حکومت ایک طرف لاکھوں بچوں کو تعلیمی دھارے میں لانے، اسکولوں میں گنجائش بڑھانے اور غیر رسمی تعلیم کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے، تو دوسری جانب صحت کے شعبے میں قانون سازی، ٹیلی میڈیسن اور خصوصی طبی اداروں کو فعال بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے انہوں نے کہا کہ صنعتوں کی بحالی، کاروبار میں آسانی، معدنی وسائل کے مؤثر استعمال، سیاحت و ثقافت کے فروغ اور زراعت کی جدید کاری کے ذریعے صوبے کی معاشی بنیاد مضبوط بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسی طرح خواتین کے تحفظ، نئے اضلاع میں مقامی اداروں کے قیام، ڈومیسائل کے اجرا کے نظام کو آسان بنانے، شہری ماحول بہتر کرنے اور سرکاری خریداری میں شفافیت یقینی بنانے کے فیصلے براہ راست عوامی سہولت اور ادارہ جاتی اصلاحات سے متعلق ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت اجلاس میں منظور کیے گئے فیصلے اس عزم کا اظہار ہیں کہ صوبے میں پالیسی سازی کو عوامی ضروریات، جدید تقاضوں اور عملی اصلاحات سے منسلک کیا جائے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ فیصلے صرف کاغذوں تک محدود نہ رہیں بلکہ ان کے ثمرات بلوچستان کے عام شہری تک پہنچیں۔

