اسلام آباد (الفجرآن لائن)بجٹ 2026-27 کے تحت ایف بی آر نے ٹیکس چوری اور جعلی انوائسز کے خلاف سخت اقدامات کی تجاویز پیش کر دی ہیں۔ فنانس بل میں ڈیجیٹل انٹیگریشن نہ کرنے والے کاروباریوں پر بھاری جرمانے عائد کرنے اور کاروبار سیل کرنے کی تجویز شامل ہے۔
ایف بی آر کے مطابق، کاروبار کو ڈیجیٹل نظام میں شامل نہ کرنے پر 10 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔ اگر مقررہ مدت میں انٹیگریشن نہ کیا گیا تو متعلقہ کاروبار سیل کرنے کی قانونی اجازت بھی دی جائے گی۔ مسلسل خلاف ورزی کی صورت میں 50 لاکھ روپے تک اضافی جرمانہ تجویز کیا گیا ہے۔جعلی اور فرضی انوائسز پر سخت ترین کارروائیفنانس بل میں جعلی ٹیکس انوائسز کے خلاف متعدد سخت دفعات شامل کی گئی ہیں۔
ایف بی آر کی سفارشات کے مطابق جعلی انوائس جاری کرنے والوں پر انوائس کی مکمل مالیت کے برابر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔ جعلی انوائس جاری کرنے والوں کی عوامی فہرست جاری کی جائے گی۔فرضی انوائسز کی بنیاد پر حاصل کیا گیا ٹیکس کریڈٹ خودکار طور پر منسوخ ہو جائے گا۔جعلی انوائسز کے خلاف خودکار کارروائی کا نظام متعارف کرایا جائے گا۔جعلی انوائس جاری کرنے والے سپلائرز کے خریدار بھی کارروائی کے دائرے میں آئیں گے۔
ان پٹ اور آؤٹ پٹ ٹیکس میں فرق پر جرمانہان پٹ ٹیکس اور آؤٹ پٹ ٹیکس میں فرق ثابت ہونے پر 20 فیصد جرمانہ عائد کرنے کی تجویز ہے۔ غلط ان پٹ ٹیکس کریڈٹ لینے والوں پر سرچارج کے ساتھ اضافی جرمانہ بھی ہوگا۔اس کے علاوہ، 60 دن کے اندر ٹیکس کریڈٹ واپس نہ کرنے کی صورت میں 20 خفیصد اضافی جرمانہ عائد کرنے کی تجویز بھی فنانس بل میں شامل ہے۔
