تحریک انصاف میثاق جمہوریت کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ ایسا الیکشن کمیشن اور نظام موجود ہو جس پر پوری قوم اعتماد کر سکے،اسد قیصر تحریک انصاف کے دور میں اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی اور پارلیمانی عمل کو محدود کیا گیا،احسن اقبال، اسمبلی میں خطاب اسلام آباد(الفجرآن لائن)قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ 2026-27 پر بحث کے دوران اپوزیشن اور حکومتی ارکان کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ دیکھنے میں آیا۔
سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے حکومت کی معاشی پالیسیوں، کسانوں کی صورتحال، ٹیکسوں اور سیاسی ماحول پر شدید تنقید کی، جبکہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے ان کے مؤقف کا جواب دیتے ہوئے تحریک انصاف کے دور حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے اسد قیصر نے کہا کہ موجودہ بجٹ درحقیقت آئی ایم ایف کا بجٹ ہے اور حکومت کی معاشی پالیسیوں کا تعین بیرونی شرائط کے تحت کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ آئی ایم ایف کو لکھے گئے خطوط کا جائزہ لیا جانا چاہیے اور یہ دیکھا جانا چاہیے کہ ملک کس سمت میں جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف نے ہمیشہ پاکستان کے مفاد کی بات کی ہے اور حکومت کو بتانا چاہیے کہ اس نے اپنے دور میں کتنا قرضہ لیا ہے۔ اسد قیصر نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، مہنگائی اور کسانوں کے مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں گندم کے کاشتکار شدید نقصان سے دوچار ہوئے ہیں اور حکومتی پالیسیوں نے کسانوں کو مشکلات میں دھکیل دیا ہے۔انہوں نے دعوی کیا کہ 90 ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان چھوڑ چکی ہیں جبکہ پشاور سمیت مختلف شہروں میں صنعتیں بند ہو رہی ہیں۔ انہوں نے تمباکو پر عائد 390 فیصد ٹیکس کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس سے چند کمپنیوں کی اجارہ داری قائم ہو جائے گی۔ اسد قیصر نے واضح کیا کہ ان کا تمباکو کے کاروبار سے کوئی تعلق نہیں، تاہم ان کے حلقے کے عوام کی بڑی تعداد اس فصل سے وابستہ ہے۔
اپوزیشن رہنما نے کہا کہ ٹیکس چوری کے خلاف مثر اقدامات کیے جانے چاہئیں اور معیشت کو سیاسی انتقام سے بالاتر ہو کر چلایا جانا چاہیے۔ انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن لیڈر کی وزیراعظم سے ملاقات کے باوجود رویوں میں تکبر نظر آتا ہے، تاہم تحریک انصاف میثاق جمہوریت کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ ایسا الیکشن کمیشن اور نظام موجود ہو جس پر پوری قوم اعتماد کر سکے۔اسد قیصر نے گلگت بلتستان کے انتخابات، انسانی حقوق کی صورتحال اور بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کے معاملے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں اور بانی پی ٹی آئی کو سیاسی رہنما ہونے کے ناطے ملاقاتوں کا حق دیا جانا چاہیے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ پارلیمنٹ اور عدلیہ کو مکمل طور پر آزاد بنایا جائے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ پر بحث حقائق کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔ انہوں نے تحریک انصاف کے دور حکومت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت اپوزیشن ارکان کے پروڈکشن آرڈرز جاری نہیں ہوتے تھے اور متعدد فیصلے پارلیمانی روایات کے مطابق نہیں کیے جاتے تھے۔
احسن اقبال نے کہا کہ تحریک انصاف کے دور میں اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی اور پارلیمانی عمل کو محدود کیا گیا۔ تاہم اس موقع پر اسد قیصر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے دورِ اسپیکر میں کسی سے ڈکٹیشن نہیں لی اور مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکان، بشمول خواجہ آصف، کے پروڈکشن آرڈرز جاری کیے تھے
