لاہور (الفجرآن لائن) نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) لاہور سرکل نے بین الاقوامی فراڈ میں مبینہ طور پر ملوث غیر قانونی کال سینٹر کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 9 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔
کارروائی کے دوران 5 لیپ ٹاپس اور 10 موبائل فونز سمیت دیگر اہم ڈیجیٹل شواہد بھی برآمد کیے گئے۔
ترجمان این سی سی آئی اے کے مطابق گرفتار ملزمان مبینہ طور پر ایک معروف ٹیلی کام کمپنی کے نمائندے بن کر برطانوی شہریوں سے رابطہ کرتے اور انہیں مختلف طریقوں سے دھوکا دے کر فراڈ کا نشانہ بناتے تھے۔
ترجمان کے مطابق کارروائی کے دوران کال سینٹر سے **5 لیپ ٹاپس اور 10 موبائل فونز** قبضے میں لیے گئے، جبکہ ابتدائی تفتیش میں ملزمان کی جانب سے فراڈ کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور مختلف سافٹ ویئر استعمال کیے جانے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر آٹو ڈائلر، وی او آئی پی (VoIP) اور ویبیکس (Webex) سافٹ ویئر استعمال کرتے تھے، جن کے ذریعے بیرون ملک شہریوں سے رابطہ کرکے انہیں فراڈ کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔
ترجمان نے بتایا کہ گرفتار ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جبکہ برآمد کیے گئے ڈیجیٹل آلات اور شواہد کی بنیاد پر مزید تفتیش جاری ہے۔
حکام اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ کال سینٹر کے ذریعے کتنے افراد کو مبینہ طور پر فراڈ کا نشانہ بنایا گیا اور اس نیٹ ورک میں مزید کون کون افراد شامل ہیں۔
ڈی جی این سی سی آئی اے **سید علی ناصر رضوی نے کہا کہ پاکستان کو عالمی سائبر فراڈ کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا اور ایسے عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی

