کراچی (الفجرآن لائن) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ہدایت پر سائبر کرائم کے خلاف کریک ڈاؤن مزید تیز کردیا گیا، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کراچی سرکل نے نجی ہوٹل کے قریب قائم مبینہ غیر قانونی اسکیم کال سینٹر Callion پر کارروائی کرتے ہوئے 33 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔
ترجمان این سی سی آئی اے کے مطابق کارروائی خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی گئی، جس کے دوران کال سینٹر میں موجود 33 افراد کو حراست میں لیا گیا۔
ابتدائی تفتیش میں گرفتار افراد کے مبینہ طور پر غیر ملکی شہریوں کا ڈیٹا چوری کرکے بینک فراڈ میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
ترجمان کے مطابق چھاپے کے دوران کال سینٹر سے بڑی تعداد میں لیپ ٹاپس، موبائل فونز اور دیگر اہم ڈیجیٹل شواہد برآمد کیے گئے، جنہیں مزید تفتیش کے لیے تحویل میں لے لیا گیا ہے۔
این سی سی آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے جبکہ معاملے کی مزید چھان بین کے لیے تفتیش کا دائرہ وسیع کردیا گیا ہے۔
حکام اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ مبینہ طور پر چوری کیے گئے ڈیٹا کو کس طرح استعمال کیا جاتا تھا اور اس کارروائی میں مزید افراد یا گروہوں کا کوئی کردار تھا یا نہیں۔
ترجمان نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے مطابق کارروائی کا مقصد شہریوں اور غیر ملکی افراد کے ڈیٹا کے غیر قانونی استعمال، آن لائن فراڈ اور سائبر جرائم کی روک تھام کو یقینی بنانا ہے۔
اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل این سی سی آئی اے **سید علی ناصر رضوی نے کہا کہ سائبر کرائم کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والے عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ شہریوں کے ڈیٹا کے تحفظ اور سائبر فراڈ کی روک تھام کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔

