منیلا (الفجرآن لائن) ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کے زیر اہتمام فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں منعقدہ "ایشیا پیسیفک سوشل پروٹیکشن ویک 2026” میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد نے پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے سماجی تحفظ کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ 6 سے 8 اکتوبر تک جاری رہنے والے اس اہم عالمی فورم میں مختلف ممالک کے پالیسی سازوں اور ماہرین نے شرکت کی.
اعلیٰ سطحی گول میز اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر روبینہ خالد نے واضح کیا کہ بی آئی ایس پی اب محض روایتی مالی معاونت تک محدود نہیں رہا۔ انہوں نے بتایا کہ صدر پاکستان کی جانب سے شروع کیے گئے "بینظیر ہنرمند پروگرام” کے تحت اب نوجوانوں اور خواتین کو مارکیٹ کی جدید ضروریات کے مطابق سکل ڈویلپمنٹ اور ڈیجیٹل مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پروگرام کی کامیابی کا معیار صرف سرٹیفکیٹ کا حصول نہیں، بلکہ نوجوانوں کے لیے روزگار اور آمدن کے حقیقی مواقع پیدا کرنا ہے، جس کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک کا تعاون حاصل ہے۔
ایڈاپٹو سوشل پروٹیکشن فورم میں پینل ڈسکشن کے دوران چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے موسمیاتی بحرانوں پر پاکستان کا مؤقف مضبوطی سے پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر کاربن کے اخراج میں پاکستان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے، لیکن ملک کے کمزور طبقات اس کا غیر متناسب بوجھ برداشت کر رہے ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مستقبل کے موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پاکستان کے متاثرہ خاندانوں کی عملی معاونت میں اضافہ کرے۔
سینیٹر روبینہ خالد نے فورم کو بی آئی ایس پی کے تاریخی اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ 2022 کے تباہ کن سیلاب کے دوران پروگرام کے تحت 27 لاکھ خاندانوں کو 70 ارب روپے کی ہنگامی امداد فوری طور پر منتقل کی گئی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ نیشنل سوشیو اکنامک رجسٹری (NSER) کے پاس 4 کروڑ سے زائد گھرانوں کا متحرک ڈیٹا موجود ہے، جس میں اب موسمیاتی خطرات کا جائزہ لینے کے لیے خصوصی سوالات بھی شامل کیے گئے ہیں تاکہ متاثرہ افراد تک امداد کی بروقت رسائی ممکن ہو سکے۔
دورہ منیلا کے دوران چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے فلپائن کے وزیر برائے سماجی بہبود و ترقی مسٹر ریکس گچالین سے بھی خصوصی ملاقات کی، جس میں اسکول سے باہر بچوں کی تعلیم، ٹیکنیکل ٹریننگ اور کیریئر بلڈنگ کے شعبوں میں باہمی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر فلپائن میں پاکستان کی سفیر ڈاکٹر عاصمہ ربانی اور ڈی جی بی آئی ایس پی ڈاکٹر عاصم اعجاز بھی موجود تھے۔

