کوئٹہ(الفجرآن لائن): زیارت میں مانگی ڈیم پمپنگ اسٹیشن پر ہونے والے دہشت گردی کے حملے کی تحقیقات کے لیے قائم تحقیقاتی کمیشن جسٹس محمد عامر نواز رانا نے کھلی عدالت میں سماعت کی۔ سماعت کے دوران مانگی ڈیم دہشت گرد حملے سے متعلق متعدد گواہ کمیشن کے روبرو پیش ہوئے اور اپنے بیانات قلم بند کرائے، جن میں سابق رکن صوبائی اسمبلی نصر اللہ خان زیرے بھی شامل تھے۔نصر اللہ خان زیرے نے کمیشن کو واقعے سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ 6 جولائی 2026 کو انہوں نے شام کے وقت چیف سیکرٹری حکومت بلوچستان اور وزیراعلیٰ بلوچستان کو مانگی کے علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی اور پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنائے جانے سے متعلق آگاہ کیا تھا۔ انہوں نے دونوں حکام سے استدعا کی تھی کہ دہشت گردوں کے خلاف بروقت اقدامات کو یقینی بنایا جائے، لیکن وزیراعلیٰ بلوچستان اور چیف سیکرٹری کی طرف سے انہیں جواب نہ مل سکا۔مزید برآں، ڈائریکٹر ویب اینالیسز ڈویژن، پی ٹی اے اسلام آباد، کمیشن کے حکم نامے کی تعمیل میں ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہوئے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی جعلی، من گھڑت اور گمراہ کن خبروں کے خلاف قانونی کارروائی کے ازخود طریقۂ کار سے متعلق کمیشن کو تسلی بخش تفصیلات فراہم نہ کیں، جس پر کمیشن نے برہمی کا اظہار کیا اور انہیں اگلی سماعت پر کمیشن کے سامنے روبرو پیش ہونے اور خودکار مانیٹرنگ اور قانونی کارروائی سے متعلق مکمل تفصیلات جمع کرنے کا حکم جاری کیا۔سماعت کے دوران عدالت کے حکم کی تعمیل میں ایڈیشنل سیکرٹری ہوم بھی کمیشن کے روبرو پیش ہوئے۔ انہوں نے شہداء معاوضہ پیکیج میں اضافے کی سمری وزیراعلیٰ بلوچستان کو منظوری کے لیے ارسال کرنے سے متعلق تحقیقاتی کمیشن کو آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کابینہ سے باضابطہ منظوری کے بعد اس حوالے سے نوٹیفکیشن بھی جاری کیا جائے گا۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کے ہمراہ ڈپٹی سیکرٹری خزانہ بھی کمیشن کے روبرو پیش ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کے معاوضہ پیکیج میں کسی بھی قسم کی ٹیکس کٹوتی نہیں کی جائے گی۔ایک شہید کی بیوہ کمیشن کے روبرو پیش ہوئیں، جنہوں نے ایس پی پولیس زیارت سے وصول شدہ معاوضے کی رقم اپنے دیور کی جانب سے چھیننے، باقی ماندہ رقم ہڑپ کیے جانے اور دھمکیاں دیے جانے سے متعلق بھی شکایت کی۔ انہوں نے آئی جی پولیس بلوچستان کمپلینٹ سیل کو بھی تحریری درخواست جمع کرانے سے متعلق کمیشن کو آگاہ کیا۔تحقیقاتی کمیشن نے انسپکٹر جنرل پولیس کو درخواست پر فوری طور پر قانونی کارروائی کرنے اور اس متعلق مکمل تفصیلات آئندہ سماعت پر تحقیقاتی کمیشن کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کی۔تحقیقاتی کمیشن نے مزید کارروائی آئندہ سماعت تک ملتوی کر دی۔

