
اسلام آباد(الفجرآن لائن) پاکستان بھر کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کو تمباکو اور نکوٹین کی لت سے پاک کرنے کے لیے ایک تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اسلام آباد، راولپنڈی، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کی نامور جامعات کے وائس چانسلرز، ریکٹرز اور سربراہان نے نوجوان نسل کے محفوظ مستقبل کے لیے ’’تمباکو اور نکوٹین سے پاک یونیورسٹی کیمپسز کے تاریخی چارٹر‘‘ پر دستخط کر دیے ہیں۔ یہ اہم منظوری کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کی میزبانی میں منعقدہ وائس چانسلرز اور ریکٹرز فورم کے پانچویں ماہانہ اجلاس کے دوران دی گئی، جس کا مقصد تعلیمی اداروں میں صحت مند اور محفوظ ماحول کو فروغ دینا ہے۔
اس منظور شدہ چارٹر کے تحت تمام شریک جامعات کے کیمپسز کو ۱۰۰ فیصد تمباکو، سگریٹ نوشی، ویپنگ اور تفریحی نکوٹین کے استعمال سے پاک قرار دیا جائے گا۔ اس پالیسی کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں روایتی سگریٹ کے ساتھ ساتھ جدید دور کی الیکٹرانک سگریٹس، ویپنگ ڈیوائسز، ہیٹیڈ ٹوبیکو (HTPs) اور نکوٹین پاؤچز پر بھی مکمل پابندی عائد ہوگی۔ اس عزم کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تعلیمی اداروں میں طلبہ کی قیادت میں آگاہی مہمات چلائی جائیں گی، باقاعدہ تحقیق ہوگی اور سالانہ بنیادوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔ فورم نے فیصلہ کیا ہے کہ اس دستخط شدہ چارٹر کو ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے چیئرمین کے ذریعے براہِ راست وزیراعظم پاکستان کو ارسال کیا جائے گا تاکہ قومی سطح پر اس کے نفاذ کے لیے مضبوط پالیسی بنائی جا سکے۔
اجلاس کے دوران جہاں جامعات کے مالی اور ضابطہ جاتی مسائل پر گفتگو ہوئی، وہیں کامسیٹس کے ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر راحیل قمر نے مصنوعی ذہانت (AI) اور کوانٹم کمپیوٹنگ جیسی جدید ٹیکنالوجیز کے اعلیٰ تعلیم اور سائنسی دریافتوں پر اثرات کو بھی اجاگر کیا۔ اس اہم بیٹھک میں ایئر یونیورسٹی، بحریہ یونیورسٹی، فاسٹ، فاطمہ جناح ویمن یونیورسٹی، وفاقی اردو یونیورسٹی، نیو ٹیک اور ورچوئل یونیورسٹی سمیت متعدد سرکاری و نجی جامعات کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور ملکی سطح پر تعلیمی اصلاحات اور باہمی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا

