اسلام آباد(الفجرآن لائن)نئی ہاؤسنگ پالیسی کے تحت وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر جی 7 میں کثیرمنزلہ اپارٹمنٹس اور ایف 7 میں کثیر منزلہ پارکنگ کی تعمیر کی تجویزدی گئی ہے۔
وفاقی حکومت تقریبا پچیس سال بعد نیشنل ہاؤسنگ پالیسی2026لانچ کرنے جا رہی ہے۔ نئی پالیسی میں سستی رہائشی فنانس اور خاص طور پر اسلام آباد کی ایف-7 و جی-7 کی کچی آبادیوں کی مخلوط استعمال پر مبنی تعمیر نو کو نمایاں جگہ دی گئی ہے۔
وفاقی کابینہ نے اس پالیسی کی منظوری دے دی ہے جو 2001 کے بعد پہلا بڑا قومی ہاؤسنگ فریم ورک ہے۔
پالیسی کا بنیادی مقصد ملک میں 10 سے 13 ملین یونٹ رہائشی خسارے کو کم کرنا اور کم و متوسط آمدنی والے طبقات کے لیے سستی، پائیدار اور موسمیاتی طور پر مضبوط رہائش فراہم کرنا ہے۔
پالیسی میں سب سے اہم تجویز ایف-7 اور جی-7 کی کچی آبادیوں کی تجدیدہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ قیمتی شہری زمین پر موجود غیر رسمی آبادیوں کو مسمار کر کے رہائشیوں کو شہر سے باہر دھکیلنے کے بجائے انہیں وہیں بلند عمارتوں میں رہائش دی جانی چاہیے جبکہ تجارتی ترقی سے حاصل ہونے والی آمدنی سے سبسڈی فراہم کی جائے۔
حکومتی کے مطابق ایف-7 کچی آبادی تقریبا 67 ہزار مربع گز رقبے پر پھیلی ہوئی ہے جہاں 900 رہائشی یونٹ موجود ہیں۔ تجویز کردہ ماڈل کے مطابق اس سائٹ کو 60:40کے تناسب سے کثیر منزلہ پارکنگ کے لیے تقسیم کیا جائے گا۔
فلور ایریا ریشو 1:12 رکھا گیا ہے جس سے تقریبا 43 لاکھ مربع فٹ تعمیر شدہ رقبہ بنے گا۔ 2022کی زمین کی قیمتوں کی بنیاد پر اس منصوبے سے تقریبا 72 ارب روپے کی خالص آمدنی متوقع ہے۔
حکومت کے مطابق جی-7 کی تین کچی آبادیوں کا رقبہ تقریبا ایک لاکھ 45 ہزار مربع گز ہے جہاں دو ہزار رہائشی یونٹ ہیں۔ یہاں چار منزلہ عمارتوں میں 800 مربع فٹ کے تقریبا 4500 اپارٹمنٹس تعمیر کیے جائیں گے۔
ان میں سے تین ہزار اپارٹمنٹس موجودہ رہائشیوں (ایف-7 سے ایک ہزار اور جی-7 سے دو ہزار)کو سبسڈی شدہ قیمت اور بیس سال کی آسان اقساط پر دیے جائیں گے جبکہ باقی 1500اپارٹمنٹس عام مارکیٹ میں فروخت کر کے کراس سبسڈی کا بندوبست کیا جائے

