اسلام آباد (محمد ثاقب خان) وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی ساڑھے تیرہ سالہ دور حکومت میں کے پی کے کو قرون وسطی میں لے گئی ہے۔
صوبے پر دہشتگردوں کو مسلط کرنے کے لئے یہ جماعت پوری طرح سرگرم ہے۔ صوبائی گورننس کی بہتری کے بجائے ان کی تمام تر توجہ قیدی کو چھڑانے اور انتشار و بد امنی پیدا کرنے پر ہے۔
کو آ رڈینیٹر اختیار ولی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا ایک دور تھا صوبہ پختونخواہ امن اور خوشحالی کا گہوارہ تھا۔ صوبہ سیاحوں بہترین تفریخ مقام تھا۔
تاہم جب سے پی ٹی آئی اس صوبے پر مسلط ہوئی یہ صوبے میں تباہی و بربادی لائی اور کے پی کے کو قرون و سطی کے دور میں لے گئی۔ انہوں نے کہا ماضی میں خیبر پختونخوا ہمارے لئے باعث فخر تھا۔
صوبہ امن کا گہوارہ تھا۔ 13 سال میں خیبر پختونخوا کا جو حشر پی ٹی آئی نے کیا، اس کی مثال نہیں۔ صوبے کو قرون وسطیٰ میں لے گئی۔ صوبے کے عوام ترقی کی راہیں دیکھ رہے ہیں۔
انہوں نے وفاق اور صوبائی حکومت کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف عوام کی خدمت میں دن رات مصروف ہیں۔ وزیراعظم نے مستحق افراد کو پیٹرول پر سبسڈی دی۔
اس کے برعکس بانی پی ٹی آئی جیسے وزیر اعظم 12 بجے ہیلی کاپٹر سے آفس آتے اور پانچ بجے واپس چلے جاتے تھے۔ پی ٹی آئی کا دور حکومت سب کے سامنے ہے۔
انہوں نے خیبر پختونخوا کے عوام کو غربت میں قید کر دیا ہے۔ یہ لکی مروت سے صوابی تک آئی ٹی پارک کیوں نہیں بنائیں گئے، خیبر پختونخوا کے عوام دہشت گردی کے جال میں پھنس گئے ہیں۔ انھیں بنیادی سہولتیں تک میسر نہیں۔
انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی والے دہشت گردوں کے سہولت کار ہیں۔ یہ لوگ طالبان آئیڈیالوجی پر کام کر رہے ہیں۔ انکی حکومت دہشت گردی کی مذمت نہیں کرتی۔ دوسری طرف پنجاب، سندھ اور بلوچستان کی ترقی سب کے سامنے ہے۔
پی ٹی آئی نے طلبہ کے لئے آئی ٹی شعبے میں آگے بڑھنے کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے۔ انہوں نے کہا ہر وقت انتشار کی سیاست کسی کے فائدے میں نہیں، انھیں یہ معلوم ہونا چاہیے۔ احتجاج اور دھرنوں سے بانی کی رہائی نہیں ہوگی۔
سی ٹی ڈی، فرانزک لیب اور پولیس کو جدید اسلحہ سے لیس کرنا خیبر پختونخوا حکومت کا کام تھا۔ خیبرپختونخوا میں ماؤں کی گودیں اجڑ رہی ہیں، گھروں میں ماتم ہے، مگر صوبائی حکومت انتشاری جلسوں اور لانگ مارچ میں مصروف ہے۔
انہوں نے کہا حکومت کی ایک ذمہ داری ہے اور وہ عوام کو امن، تحفظ اور عملی اقدامات کرنا ہیں. یہ بتائیں آخر انکی ترجیح کیا ہے۔ عوام کی جان یا سیاسی احتجاج، انتشار و فساد۔
یہ بتائیں انہوں نے کے پی کے کو کوئی ہسپتال، یونیورسٹی، سڑکیں ، بچوں کو لیپ ٹاپس دئیے۔ یا ہر وقت انتشار گالم گلوچ کی سیاست میں مصروف رہے۔
این ایف سی فنڈز کا پیسہ کہاں خرچ کیا۔ کوئی سی ٹی ڈی، فرانزک لیب، سی سی ٹی وی کیمرے نہیں لگے۔ یہ سارا پیسہ انتشار اور رتخریب کاری پر خرچ کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ان کا پورا دن انتشاری ٹولے کو فروغ دینے میں گزرتاہے، کے پی کے میں دہشتگردی کی مکمل ذمہ داری پی ٹی آئی پر عائد ہوتی ہے۔
دہشتگردی میں روزانہ خواتین، بچے اور سیکیورٹی فورسز کے اہلکار شہید ہوتے ہیں اس کے ذمہ دار یہ لوگ ہیں۔
اب یہ دہشتگردوں کے ساتھ مل کے پورے صو بے پر انکو مسلط کرنا چاہ رہے ہیں۔صوبے کو سیاست نہیں امن کی ضرورت ہے

