واشنگٹن، کابل (الفجرآن لائن) افغانستان سے پاکستان میں سرحد پار دہشت گردی اور افغان سرزمین پر شدت پسندوں کے ٹھکانوں کے حوالے سے ایک بار پھر عالمی میڈیا میں رپورٹ کیا گیا ہے۔
دی پالیسی ڈائجسٹ کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق، امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی سابق ٹارگٹنگ افسر سارہ ایڈمز نے دعویٰ کیا ہے کہ 21 ستمبر کو مشرقی افغانستان میں پاکستانی فضائی حملوں کے دوران دہشت گردوں کے اہم مراکز کو نشانہ بنایا گیا، جن میں مبینہ طور پر 19 دہشت گرد ہلاک اور 11 سے زائد زخمی ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق، پکتیکا اور کنڑ میں تین اہم مبینہ دہشت گرد مراکز کو کارروائی کا نشانہ بنایا گیا۔
سارہ ایڈمز سے منسوب بیان میں کہا گیا ہے کہ ان اہداف میں خودکش حملہ آوروں کا تربیتی کیمپ، دہشت گردوں کی سہولت کاری کا مرکز اور فتنہ الخوارج اور داعش کا ایک مبینہ مشترکہ مرکز شامل تھا۔
دی پالیسی ڈائجسٹ کی رپورٹ میں ان کارروائیوں کو پاکستان کے اس مؤقف کے تناظر میں پیش کیا گیا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔

